صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 225
صحیح البخاری جلد ۱۲ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ۲۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الصف غضب کی بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیح کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ اب تک اس کو زندہ سمجھ کر ہزارہا اور بیشمار فتنے اسلام کیلئے برپا کر دیں اور مسیح کو آسمان کا حی و قیوم اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا مردہ ٹھہر اویں۔ حالانکہ مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف:۷) یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئیگا اور نام اس کا احمد ہو گا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلارہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔ وجہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں۔ یعنی ایک اُس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اُس عالم کی طرف سے آیا۔“ نیز فرمایا: آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں۔ دوسر ابعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے۔ جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ “ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۴)