صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 222
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الصف آگے کام کرنا تمہارا کام ہے۔ پہلی سیڑھی اطفال الاحمدیہ ہے، دوسری سیڑھی خدام الاحمدیہ ہے، تیسری سیڑھی انصار اللہ ہے اور چوتھی سیڑھی خدا تعالیٰ ہے۔ تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرو اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو تو یہ چاروں سیڑھیاں مکمل ہو جائیں گی۔ اگر تمہارے اطفال اور خدام ٹھیک ہو جائیں اور پھر تم بھی دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لو تو پھر تمہارے لئے عرش سے نیچے کوئی جگہ نہیں اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔ دنیا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ سو دو سوفٹ پر حملہ کر سکتی ہے۔ وہ عرش پر حملہ نہیں کر سکتی۔ پس اگر تم اپنی اصلاح کر لوگے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو گے تو تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جائے گا اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔ عیسائیوں کی تعداد تو تمام کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباً دو گئی ہوتی ہے۔ مگر تمہارے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تعداد کو اتنا بڑھا دے گا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دوسرے تمام مذاہب ہندو ازم ، بدھ مت، عیسائیت اور شنٹو ازم وغیرہ کے پیرو تمہارے مقابلہ میں بالکل ادنی اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔ یعنی ان کی تعداد تمہارے مقابلہ میں ویسی ہی بے حقیقت ہو گی جیسے آج کل ادنی اقوام کی دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ہے۔ وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے یقیناً آئے گا۔ لیکن جب آئے گا تو اس کے ذریعہ سے آئے گا کہ خلافت کو قائم رکھا جائے، تبلیغ اسلام کو قائم رکھا جائے، تحریک جدید کو مضبوط کیا جائے، اشاعت اسلام کے لئے جماعت میں شغف زیادہ ہو اور دنیا کے کسی کو نہ کو بھی بغیر مبلغ کے نہ چھوڑا جائے۔“ ( مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع ۱۹۵۶ میں خطابات، انوار العلوم جلد ۲۵ صفحه ۴۷۴، ۴۷۵)