صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 221
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الصف جگہ اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایک گروہ انصار کا تھا۔ گویا یہ نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے، ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے۔ ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سال سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا ۔ گویا جس طرح قرآن کریم میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اسی طرح جماعت احمد یہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔“ مجلس انصار اللہ مرکز یہ کے دوسرے سالانہ اجتماع ۱۹۵۶ میں خطابات، انوار العلوم جلد ۲۵ صفحه ۴۶۰،۴۵۹) نیز فرمایا: یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مدد گار۔ گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالی از لی اور ابدی ہے۔ اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں۔ ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔ اسی لئے میں نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ اطفال اور خدام آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔ اگر اطفال الاحمد یہ کی تربیت صحیح ہو گی تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہو گی۔ میں نے سیڑھیاں بنادی ہیں۔