صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 219 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 219

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الممتحنة آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کو منع نہیں کیا۔مگر سینہ کوبی کرنا، جاہلیت کے بین کرنا اور نوحہ خوانی کرنا منع ہے۔اور تربیت کا یہ پہلو آج بھی بشدت محسوس ہوتا ہے۔آج جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت احمدیہ کے زیر سایہ ان بد رسوم کے خلاف جہاد کا علم اٹھائے ہوئے ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: ” ہمارے معاشرے میں خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیسیوں، سینکڑوں شاید ہزاروں بد رسمیں داخل ہو چکی ہیں۔احمدی گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام بد رسوم کو جڑ سے اکھیڑ کے اپنے گھروں سے باہر پھینک دیں۔“ مزید فرمایا: خطبات ناصر جلد اول، صفحه ۷۵۸) ہر گھرانے کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بدر سوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یاد رکھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے لکھی۔۔۔پس آج میں اس مختصر سے خطبہ میں ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور جماعت احمدیہ میں اس پاکیزگی کو قائم کرنے کے لیے جس پاکیزگی کے قیام کیلئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے ہر بدعت اور بد رسم کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ اس جہاد میں شریک ہوں گے۔“ خطبات ناصر جلد اول، صفحه ۷۶۳،۷۶۲)