صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 218
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة أولادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَان يَفْتَرِينَكَ النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ۔۔آپ نے پوری آیت بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ (الممتحنة: ۱۳) پڑھی۔پھر جب فارغ ہوئے فرمایا: تم ان شرطوں حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ پر قائم ہو ؟ صرف ایک ہی عورت نے کہا: جی ہاں فَرَغَ أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ يا رسول اللہ۔اس کے سوا کسی نے جواب نہیں وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دیا۔حسن ( بن مسلم) نہیں جانتے کہ وہ کون تھی۔لَا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ آپ نے فرمایا: اچھا تو صدقہ دو۔اور حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور وہ حضرت بلال کے وَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَحَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ۔کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔أطرافه: ٩٨ ٨٦٣، ٩٦٢، ۹٦٤ ، ۹۷۰، ۹۷۷، ۹۷۹ ، ۹۸۹، ١٤٣١، ١٤٤٩، ٥٢٤٩، -۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۵۸۸۱ ،٥٨٨٠ یح: إذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعُنَكَ: جب مؤمن عور تیں تیرے پاس تجھ سے بیعت کرنے آئیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام وقت کی بیعت کرنا مردوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے۔مگر عورتوں کی بیعت مردوں کی طرح نہیں ہوتی۔امام وقت اُن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت نہیں لیتے بلکہ زبانی اقرار کی صورت میں وہ امام کے پیچھے بیعت کے الفاظ کو دوہرائیں گی۔بعض شارحین کے نزدیک اگر امام وقت کسی محرم کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھیں اور باقی عورتیں اس پر اپنا ہاتھ رکھیں تو یوں اس جسمانی تعلق سے اُن روحانی لہروں کو جذب کرنے کا طریق ہو سکتا ہے جیسا کہ مردوں کی بیعت میں ہوتا ہے۔وگرنہ عورتوں کی بیعت زبانی ہی ہوگی اور کسی نا محرم کا ہاتھ چھونا منع ہے۔جن باتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عورتوں سے بیعت لی وہ آج بھی عورتوں کے لئے اتنی ہی اہم ہیں۔مثلا شرک سے اجتناب، جزع فزع اور نوجہ سے روکنا، بین وغیرہ کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔افسوس مسلمان عورتوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو بھلا دیا اور جن بد رسوم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو منع فرمایا تھاوہ رسومات آج مسلم معاشرے میں عام نظر آتی ہیں۔اسلام نے ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "اے نبی !جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی (کسی پر) کوئی جھوٹا الزام لگائیں گی جسے وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے گھڑ لیں اور نہ ہی معروف (امور) میں تیری نافرمانی کریں گی تو تو اُن کی بیعت قبول کر اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب کر۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔“