صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 217
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۷ ۶۵ کتاب التفسير / الممتحنة چاہا تو پردہ پوشی فرما کر در گزر کر دے گا۔تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فِي ( على بن عبد اللہ کی طرح) اس حدیث کو عبد الرزاق الآية۔أطرافه : ۱۸، ۳۸۹۲، ۳۸۹۳، ۳۹۹۹، ٧٢۱۳، ٧٤٦٨۔نے بھی بیان کیا ہے۔انہوں نے معمر سے اس آیت کے متعلق روایت کی ہے۔،۷۱۹۹ ،۷۰۰۰ ٠٦٧٨٤ ٠٦٨٠١ ٠٦٨٧٣ ٤٨٩٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ۴۸۹۵: محمد بن عبد الرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ہارون بن معروف نے ہمیں بتایا۔عبد اللہ بن عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: اور ابن جریج نے جُرَيْجٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ مجھے خبر دی کہ حسن بن مسلم نے انہیں بتایا۔عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ انہوں نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت عَنْهُمَا قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ نے کہا: میں نے عید الفطر کے دن نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی تو وہ سب ہی اس نماز کو خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے اور اس کے پڑھنے) کے بعد لوگوں سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مخاطب ہوتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر حِينَ يُجَلسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ سے اُترے گویا کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا يَشُقُهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ مَعَ بِلَالٍ ہوں، جب آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے فَقَالَ يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنتُ لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔پھر آپ ان کی صفوں کو يبايعنَكَ عَلَى أنْ لَا يُشْرِكُن بِاللهِ شَيْئًا چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور مع بلال عورتوں وَلَا يَسْرِقُنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلُنَ کے پاس آئے اور آپ نے یہ آیت پڑھی: یا تھا