صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر ٣٩ سُورَةُ الزُّمَرِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ اَفَمَنْ يَتَّقِى پوچھے اور مجاہد نے کہا: أَفَمَنْ يَتَّقِى بوجھ سے یہ مراد (الزمر: ٢٥) يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ ہے کہ وہ آگ میں منہ کے بل گھسیٹا جائے گا۔اور وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى أَفَمَنْ يُلقى فِي النَّارِ یہی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا وہ بہتر ہے جو آگ میں ڈالا جائے گا یا وہ جو کہ قیامت کے خَيْرٌ اَم مَنْ يَأْتِي أَمِنَّا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ دن بلا خوف و خطر آئے گا۔ذی عوج یعنی شبہ ( حم السجدة: ٤١) ذى عوج (الزمر : ٢٩) والا- رَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ صَالِحًا۔یعنی ایک نیک لَبْس۔رَجُلًا سَلَمَا لِرَجُلٍ (الزمر: ٣٠) بنده کلیۂ ایک ہی شخص کا ہوتا ہے۔یہ مثال ہے صَالِحًا مَثَلٌ لِآلِهَتِهِمُ الْبَاطِلِ وَالْإِلَهِ اُن کے باطل معبودوں کی اور سچے معبود کی۔الْحَقِّ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَيُخَوَفُونَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُونِهِ کے معنی ہیں: اور (الزمر:۳۷) بِالْأَوْثَانِ خَوَّلْنَا أَعْطَيْنَا وہ مجھے اُن سے ڈراتے ہیں جو اُس کے ماسوا ہیں، یعنی بتوں سے۔خَوَّلُنَا یعنی ہم نے دیا۔وَالَّذِی وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ (الزمر: ٣٤) الْقُرْآنُ۔جاء بالضدرق یعنی وہ جو سچائی لایا۔( یہاں سچائی بِهَ وَصَدَّقَ بِة (الزمر: ٣٤) الْمُؤْمِنُ يَجِيءُ سے) مراد قرآن ہے۔وَصَدَّقَ بِہ اور جس نے يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ هَذَا الَّذِي أَعْطَيْتَنِي اس کی تصدیق کی (اس سے مراد) مؤمن ہے جو قیامت کے روز آئے گا۔کہے گا: یہی ہے وہ جو تو عَمِلْتُ بِمَا فِيهِ۔نے مجھے دیا، میں نے جو اس میں تھا اُس پر عمل کیا۔مُتَشكِسُونَ (الزمر: ٣٠) الرَّجُلُ الشَّكِسُ مُتَشْكِسُونَ یعنی ایک دوسرے کے مخالف۔الْعَسِرُ الَّذِي لَا يَرْضَى بِالْإِنْصَافِ الرَّجُلُ الشَّكسُ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو سخت وَرَجُلًا سِلْمًا وَيُقَالُ سَالِمًا صَالِحًا مزاج، تنگ ظرف ہو، جو انصاف پر راضی نہ ہو۔اشْمَازَتْ (الزمر: ٤٦) نَفَرَتْ بِمَفَازَتِهِمْ رَجُلًا سِلْها (بھی آتا ہے) اور رَجُلًا سَالِیا بھی (الزمر: ٦٢) مِنَ الْفَوْزِ حَافِین کہتے ہیں۔دونوں کے معنی ہیں اچھا آدمی۔اسمارت (الزمر: ٧٦) أَطَافُوا بِهِ، مُطِيفِينَ بِحِفَافَيْهِ کے معنی ہیں اس نے نفرت کی۔بمفاز ھم یہ لفظ