صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 215
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَ اَجْرٌ عَظِيمٌ (الحجرا جرات (۴) یعنی وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو رسول کے سامنے دبا کر رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کا اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے پوری طرح جائزہ لے لیا ہے اور اُن کے لئے مغفرت اور بڑا اجر مقدر ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) ظاہری ادب سے دلوں کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔ اسی طرح جن عورتوں سے متعلق بذریعہ تحقیق و آزمائش معلوم ہو جائے کہ وہ اپنا دین محفوظ کرنے کی غرض سے ہجرت کر کے آئی ہیں، وہ واپس نہ کی جائیں۔ سورہ ممتحنہ کا نزول صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس میں جو واضح حکم عورتوں سے متعلق وارد ہوا ہے، اس حکم میں جہاں تک کفار کی عورتوں کا تعلق ہے اُن کے ساتھ پورا منصفانہ سلوک مد نظر رکھا گیا ہے۔ بَاب : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعْنَكَ (الممتحنة : ١٣) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جب مومن عورتیں تیرے پاس تجھ سے بیعت کرنے آئیں ٤٨٩٢ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۴۸۹۲: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ الله نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت عَنْهَا قَالَتْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ أم عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا أَنْ لَا يُشْرِكْنَ ہم نے رسول الله صل السلام علی علیم سے بیعت کی۔ آپؐ نے بِاللهِ شَيْئًا (الممتحنة: ١٣) وَنَهَانَا عَنِ ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی کہ وہ اللہ کے سوا کسی النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتْ امْرَأَةً يَدَهَا فَقَالَتْ کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور آپ نے ہمیں بین کرنے سے روکا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ فَأُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَمَا اور بولی: فلاں عورت نے (بین کرنے میں) میری قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مدد کی تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ میں بھی اس کے شَيْئًا فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا ۔ أطرافه: ١٣٠٦، ٧٢١٥۔ عوض میں ( اس کے ساتھ بین) کرلوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کچھ نہیں فرمایا۔ وہ چلی گئی اور پھر لوٹ آئی اور آپؐ نے اس سے بیعت لی۔ ٤٨٩٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۸۹۳: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا وهب بن جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم