صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 214
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة قَوْلِهِ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الممتحنة: ١٣) يَايُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعُنَكَ۔۔قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ عروہ نے کہا : حضرت عائشہ فرماتی تھیں : جس مؤمن بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ قَالَ لَهَا عورت نے اس شرط کا اقرار کر لیا تو رسول اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے : میں نے تجھ سے بَايَعْتُكِ كَلَامًا وَّلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ بیعت لے لی۔یہ زبان سے فرماتے اور ہر گز نہیں، يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا يُبَايِعُهُنَّ اللہ کی قسم ہر گز نہیں، آپ کے ہاتھ نے کبھی کسی إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكِ۔عورت کے ہاتھ کو بیعت کے وقت نہیں چھوا۔آپ ان سے بیعت صرف یہ کہہ کر ہی لیتے تھے کہ میں نے تم سے اس اقرار پر بیعت لے لی۔تَابَعَهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَن زُہری کے بھتیجے کی طرح) یونس، معمر اور بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيّ۔وَقَالَ عبد الرحمن بن اسحاق نے بھی زہری سے یہی إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ روایت کی۔اور اسحاق بن راشد نے زہری سے عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ۔أطرافه : ۲۷۱۳ ، ۲۷۳۳، ٤١٨٢، ٥٢٨٨، ٧٢١٤۔روایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عروہ اور عمرہ سے نقل کیا۔تشريح۔إذَا جَاءَ كُمُ الْمُؤْمِنتُ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو مؤمن عورتیں ہجرت کر کے آتیں رسول اللہ صل الله ام اس آیت کے تابع ان کا جائزہ لیتے۔اس جائزہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لفظ امتحان استعمال کیا ہے۔یہ لفظ متن سے ہے۔اس کے معنی ہیں کھرے کھوٹے کا نکھار کیا۔کہتے ہیں: فَمَنِ الْفِضَّةَ: صَفَّاهَا وَخَلَّصَهَا بِالنَّارِ آگ سے چاندی کو صاف اور خالص بنایا۔(اقرب الموارد- محن) قرآن کریم میں لفظ امتحان اس آیت میں بھی آیا ہے۔فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ يَخْضُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَبِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اے نبی ! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں (اور ) اس (امر) پر تیری بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ ہی چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی (کسی پر) کوئی جھوٹا الزام لگائیں گی جسے وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے گھڑ لیں اور نہ ہی معروف (امور) میں تیری نافرمانی کریں گی تو تو ان کی بیعت قبول کر اور اُن کے لئے اللہ سے بخشش طلب کر۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔“