صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 213 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 213

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة اس کو پکڑ کر اس سے خط لے لیں۔چنانچہ اس جماعت نے اس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں جس پر حضرت علی نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحی الہی کے خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاطب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا مجھے خدا کی قسم ہے کہ جب سے میں ایمان لایا ہوں کبھی کا فرنہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکہ میں میرے قبائل کا کوئی حامی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ کفار میرے قبائل کو دکھ نہ دیں۔حضرت عمر نے چاہا کہ حاطب کو قتل کر دیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اصحاب بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کرو جو بھی ہو میں نے تمہیں بخش دیا۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۲۹،۵۲۸) بَاب : ١ اِذَا جَاءَ كُمُ الْمُؤْمِنتُ مُهجرات (الممتحنة: ١١) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں ٤٨٩١: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۴۸۹۱: اسحاق بن منصور ) نے مجھے بتایا کہ ہم سے يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا يعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہ ہمیں۔ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِهِ أَخْبَرَنِي ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ کرتے ہوئے بتایا۔(انہوں نے کہا:) مجھے عروہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بن زبیر) نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بتایا کہ رسول اللہ صلی ا یکم جو مومن عورتیں آپ کے بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: يَايُّهَا پاس ہجرت کر کے آتیں اس آیت سے آپ ان النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعُنَكَ إِلَى کا امتحان لیتے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: