صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 212 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 212

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۲ ۶۵ کتاب التفسير / الممتحنة کی جاسوس تھی (جیسا کہ امام بخاری نے کتاب الجہاد میں اس واقعہ پر باب الجاسوس کا عنوان قائم کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے ) اس عورت کا انتخاب اہلِ مکہ کی گہری سازش سے نقاب اٹھاتا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عورت بنی ہاشم کے گھروں سے پرانا تعلق رکھتی ہے اور انہی کی امداد پر اس کی گزران اوقات ہوتی تھی اس لیے اس کا انتخاب کیا تا کہ کوئی اس پر شک نہ کرے۔اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا خط دینا اللہ تعالیٰ کی اس حکمت بالغہ کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے اسلام پر یہ دھبہ لگنے سے بچایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غریب مسکین عورت کو جاسوسی کے الزام میں پکڑا۔اس خط کی برآمدگی نے اس عورت کا مجرم ہونا ثابت کر دیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے چہرے کو اس داغ سے ہمیشہ کے لیے بچا لیا کہ اسلام کے عورت کی عزت کے دعوئی اور عمل میں فرق ہے کیونکہ دنیا کی کوئی تہذیب جاسوس اور مجرم کو بری قرار نہیں دیتی خصوصا جبکہ اس سے جاسوسی کا مال بھی برآمد ہو جائے۔اس واقعہ کی تفصیل حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے بیان فرمائی ہے۔آپؐ فرماتے ہیں: اس جگہ سارہ والے واقعہ کا بیان کر دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اور وہ اس طرح سے ہے کہ سارہ نام ایک عورت جو کہ مکہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیر سایہ پرورش پایا کرتی تھی۔ان ایام میں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی آپ کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، میں مسلمان ہو کر نہیں آئی بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپ کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے۔اس واسطے میں آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ مجھے کچھ مالی امداد مل جائے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ ہم نے بعض لوگوں کو فرمایا اور انہوں نے اس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو حاطب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا اس کو دس درہم دیے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں، یہ خط اہلِ مکہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ یہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطب نے اہل مکہ کو خبر کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے تم ہوشیار ہو جاؤ۔وہ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہی خبر مل گئی کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بمع عمارہ اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ