صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 211
حیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة ح۔لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءُ: پوری آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا الَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللهِ رَبِّكُمْ إِن كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ أَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُهُ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيْلِ O (الممتحنة:۲) اے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو گہر ا دوست نہ بنایا کرو۔تم تو ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔حالانکہ وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہاری طرف آیا ہے۔وہ تم کو بھی اور رسول کو بھی صرف اس لئے کہ تم سب اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان لائے ہو لڑنے کے لئے (گھروں سے) نکالتے ہیں۔اگر تم میرے رستہ میں کوشش کرنے اور میری رضا جوئی کے لئے نکلو تو تم میں سے بعض چوری چوری ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہیں اور میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ایسا کام کرے وہ سمجھ لے کہ وہ سیدھے رستہ سے بھٹک گیا۔( ترجمه تفسیر صغیر) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: مذکورہ بالا آیات کریمہ میں دشمن کی طرف میلان اور اس سے راہ و رسم اور تعلقات قائم کرنے یا جاری رکھنے کی بڑی وجہ قرابت و مروت بتائی گئی ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ امر تمہارے حالات سے دشمن کے واقف ہو جانے کا ذریعہ نہ بنے۔جنگ میں کامیابی کے لئے ابتدائی ضرورت یہی ہے کہ بر سر پیکار قوم کی نیت و قصد ، قوت واستعداد اور نقل و حرکت کا صحیح علم حاصل ہو۔اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے جو غلطی سرزد ہوئی وہ بھی اسی قسم کی تھی جس کا ذکر آیت مذکورہ بالا میں کیا گیا ہے۔ان کی اس غلطی پر بعض صحابہ کو شدید غصہ آیا اور انہیں قتل کر دینے پر وہ آمادہ ہو گئے۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حقیقت بین ان کے قلبی اخلاص تک پہنچی اور آپ نے ان کا عذر قبول فرما لیا۔واقعہ مذکورہ بالا میں آپ کے حسن انتظام اور خلق کریم کی شان نمایاں ہے۔۔۔اس ساری سورۃ کا موضوع ہی یہ ہے کہ بحالت جنگ خود حفاظتی کی تدابیر مستحکم رکھی جائیں۔یہاں تک کہ اگر کفار کی طرف سے کوئی اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو اس کی بھی اچھی طرح جانچ کر لی جائے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الجہاد والسیر، باب الجاسوس جلد ۵ صفحه ۳۵۳) اس واقعہ میں جس عورت کا ذکر ہے کہ وہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا خط لے جارہی تھی در حقیقت وہ اہلِ مکہ