صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 210
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الممتحنة ذَلِكَ كُفْرًا وَّلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي یہ کسی کفر اور نہ ہی اپنے دین سے پھر جانے کی وجہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کیا نبی صلی ا ہم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے تم إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي سے سچ سچ بیان کر دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا: يَا رَسُولَ اللهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں اس کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا: وہ بدر میں موجود تھا اور إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ الله تمہیں کیا معلوم شاید اللہ عز و جل نے بدر والوں کو عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ جھانک کر دیکھا ہو اور فرمایا ہے: جو تم چاہو کرو اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ میں نے پردہ پوشی فرما کر تم سے درگزر کر دیا۔قَالَ عَمْرٌو وَنَزَلَتْ فِيهِ يَايُّهَا الَّذِينَ عمرو بن دینار) نے کہا: اس کے متعلق یہ آیت امَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ نازل ہوئی: يَايُّهَا الَّذِينَ یعنی اے مومنو! تم أولياء (الممتحنة:٢) قَالَ لَا أَدْرِي الْآيَةَ میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔(سفیان بن عیینہ نے ) کہا: میں نہیں جانتا الْحَدِيثِ أَوْ قَوْلُ عَمْرٍو۔کہ یہ آیت حدیث میں ہے یا عمر و بن دینار) نے ہی اس (آیت) کو پڑھا۔حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ قِيلَ لِسُفْيَانَ فِي هَذَا على بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: فَنَزَلَتْ لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ سفیان سے (حضرت حاطب کے ) واقعہ کے متعلق أولياء (الممتحنة: ٢) الآيَةَ قَالَ سُفْيَانُ پوچھا گیا۔کیا یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی تھی؟ هَذَا فِي حَدِيثِ النَّاسِ حَفِظْتُهُ مِنْ لا تَتَّخِذُوا عَدُو۔تم میرے دشمنوں کو اور عَمْرٍو مَا تَرَكْتُ مِنْهُ حَرْفًا وَمَا أَرَى اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔سفیان نے کہا: لوگوں کی روایت میں ایسا ہی ہے۔میں نے عمرو أَحَدًا حَفِظَهُ غَيْرِي۔بن دینار ) سے (سُن کر) یہی یاد رکھا۔میں نے اس سے ایک حرف نہیں چھوڑا اور میں اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا کہ اس نے اس حدیث کو یاد رکھا ہو۔أطرافه: ۳۰۰۷ ،۳۰۸۱، ۳۹۸۳، ٤٢٧٤ ٦٢٥٩ ٦٩٣٩-