صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 209
رَضِيَ ح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۹ ۶۵ کتاب التفسير / الممتحنة اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر وَالْمِقْدَادَ قَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا اور مقدار کو بھیجا۔آپ نے فرمایا: چلے جاؤ۔جب رَوْضَةَ خَاخِ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا روضہ خان میں پہنچو وہاں اُونٹ پر سوار ایک عورت كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَذَهَبْنَا تَعَادَى بِنَا ہو گی، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو۔ہمیں ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے لے گئے خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ جب روضہ خاخ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بِالطَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ فَقَالَتْ عورت شتر سوار ہے۔ہم نے کہا: وہ خط نکالو۔اس مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ہم نے کہا: الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ القِيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ تمہیں وہ خط نکالنا ہوگاور نہ ہم کپڑے اُتار دیں گے۔مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ ( یہ سُن کر ) اس نے اپنے جوڑے سے وہ خط نکالا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ ہم وہ خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسِ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اُس میں یہ تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ مکہ کے چند مشرکوں کے نام۔وہ ان کو بی سی ای کم کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ کی بات کے متعلق خبر دے رہا تھا۔نبی مینی لی ہم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا يَا حَاطِبُ فرمایا: حاطب یہ کیا ؟ حاطب نے کہا: یا رسول اللہ ! قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي میرے متعلق جلدی نہ کیجئے، میں قریش کا ایک كُنْتُ امْرَأَ مِنْ قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَّعَكَ مِنَ جن کے ذریعہ وہ اپنے اُن گھر والوں اور اپنی اُن الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا جائیدادوں کو جو مکہ میں ہیں بچاتے ہیں۔میں نے أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ یہ چاہا کہ اگر میرا اُن میں کوئی رشتہ نہیں تو میں ان فَاتَنِي مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَصْطَبَعَ پر کوئی احسان ہی کر دوں تا کہ وہ اس وجہ سے إِلَيْهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ میرے رشتہ داروں کی حمایت کریں۔اور میں نے آدمی تھا اور میں ان میں سے نہ تھا۔اور آپ کے