صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 208
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الممتحنة عورت کو حرم میں داخل کرنے کے لئے اس کی رضامندی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے جنگجو اقارب پر فتحیاب ہو کر اس کو اپنے قبضہ میں لانا یہی اس کی رضامندی ہے۔یہی حکم توریت میں بھی موجود ہے۔ہاں قرآن شریف میں فَاكُ رَقَبَةٍ یعنی لونڈی غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام بیان فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو رغبت دی ہے کہ اگر وہ ایسی لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کر دیں تو خدا کے نزدیک بڑا اجر حاصل کریں گے۔اگر چہ مسلمان بادشاہ ایسے خبیث اور چنڈال لوگوں پر فتح یاب ہو کر غلام اور لونڈی بنانے کا حق رکھتا ہے مگر پھر بھی بدی کے مقابل پر نیکی کرنا خدا نے پسند فرمایا ہے۔یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔اس لئے اب مسلمانوں کے لئے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بنادیں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے: جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو۔پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کافر لوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے۔“ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ حاشیه صفحه ۲۵۳) بَاب ۱ : لا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء (الممتحنة: ٢) تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ ٤٨٩٠ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۸۹۰: عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٌّ بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسن بن محمد بن أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَافِعِ علی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عبید اللہ بن ابی رافع كَاتِبَ عَلِي يَقُولُ سَمِعْتُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّاً سے جو حضرت علی کے منشی تھے سنا۔وہ کہتے تھے: