صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 207 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 207

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۷ ۶۵ کتاب التفسير / الممتحنة ایک سوال یہ ہے کہ وہ کافر عورتیں جو قیدی ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آجائیں مگر اسلام قبول نہ کریں اُن عورتوں کے متعلق اسلام کی کیا تعلیم ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک مدت دراز تک مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم ملتا رہا کہ ان لوگوں کی شرارتوں پر صبر کرو۔مگر آخر کار جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو خدا نے اجازت دے دی کہ اب ان شریر لوگوں سے لڑو اور جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اس سے زیادہ نہ کرو۔۔۔جب عرب کے خبیث فطرت ایذا اور دُکھ دینے سے باز نہ آئے اور نہایت بے حیائی اور بے غیرتی سے عورتوں پر بھی فاسقانہ حملے کرنے لگے تو خدا نے اُن کی تنبیہہ کے لئے یہ قانون جاری کر دیا کہ اُن کی عورتیں بھی اگر لڑائیوں میں پکڑی جائیں تو اُن کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے۔پس یہ تو بموجب مثل مشہور کہ عوض معاوضہ گله ندارد کوئی محل اعتراض نہیں۔جیسی ہندی میں بھی یہ مثل مشہور ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔پھر ماسوا اس کے اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزاد کرنے کے بارہ میں اس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔غرض ابتدا غلام لونڈی بنانے کی کافروں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اُس میں بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔“ ( چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۳ تا ۲۵۵) نیز آپ نے فرمایا: ”یادر ہے کہ نکاح کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی کی اور نیز مرد کی بھی رضا مندی لی جاتی ہے لیکن جس حالت میں ایک عورت اپنی آزادی کے حقوق کھو چکی ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ وہ ان ظالم طبع جنگجو لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں پر بے جا ظلم کئے ہیں۔تو ایسی عورت جب گرفتار ہو کر اپنے اقارب کے جرائم کی پاداش میں لونڈی بنائی گئی تو اس کی آزادی کے حقوق سب تلف ہو گئے لہذاوہ اب فتحیاب بادشاہ کی لونڈی ہے اور ایسی