صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 206 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 206

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۶ ٦٠ سُورَةُ الْمُمْتَحِنَة ۶۵ - كتاب التفسير / الممتحنة وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً اور مجاہد نے کہا: لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ یعنی ہمیں ان (الممتحنة: ٦) لَا تُعَذِّبْنَا بِأَيْدِيهِمْ کے ہاتھوں سے سزا نہ دے ورنہ وہ کہیں گے کہ فَيَقُولُونَ لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ عَلَى الْحَقِّ اگر یہ سچائی پر ہوتے تو یہ سزا ان کو نہ پہنچتی۔مَا أَصَابَهُمْ هَذَا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ بِعِصَمِ الكوافر سے یہ مراد ہے کہ نبی صلی اللہ (الممتحنة: ١١) أُمِرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ علیہ وسلم کے صحابہ کو اپنی ان عورتوں کے چھوڑ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِ نِسَائِهِمْ دینے کا حکم ہوا جو مکہ میں ابھی کا فرہی تھیں۔كُنَّ كَوَافِرَ بِمَكَّةَ۔شريح : سُورَةُ الْمُمْتَحِنَةِ: حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے پہلی سورت میں یہود کے حشر کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سورت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ جو اللہ اور رسول کی دشمنی کرتے ہیں ان کو ہرگز دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ اگر بظاہر دوست بھی بنتے ہوں تو ان کے سینہ میں بغض بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت تمہیں ہلاک کرنے کے منصوبے باندھتے رہتے ہیں۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الممتحنه صفحه ۱۰۱۷) لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً یعنی ہمیں ان کے ہاتھوں سے سزا نہ دے۔قتادہ کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ (کفار) ہم پر غالب نہ آئیں کہ ہمیں ہمارے ایمان کی وجہ سے فتنہ میں ڈالیں اور یہ خیال کریں کہ وہ بچے ہیں۔اس لئے وہ ہم پر غالب آئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۰۷) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کی سچائی کا واسطہ دے کر دشمنوں کے غلبہ سے بچنے کی دعا کی اور نتائج نے ثابت کیا کہ اسلام سچا مذ ہب ہے اس لئے کفار اس پر غالب نہ آسکے۔جیسا کہ کہا گیا ہے: أَلْإِسْلَامُ يَعْلُووَلَا يغلى یعنی اسلام غالب رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا۔( صحیح بخاری ، کتاب الجنائز، باب ۷۹ إِذا أَسْلَمَ الطَّبِي فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ) بعصم الكوافير : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الكَوَافِرِ (الممتحنة:۱۱) یعنی اور کافر عورتوں کے ننگ و ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو۔(ترجمہ تفسیر صغیر) اس سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو اپنی ان عورتوں کے چھوڑ دینے کا حکم ہوا جو مکہ میں ابھی کافر ہی تھیں۔حضرت عمر نے اپنی دو بیویوں قریبہ بنت ابی امیہ اور بنت جر ول خزاعی کو طلاق دی۔( صحیح بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد، روایت نمبر ۲۷۳۳)