صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 204 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 204

۲۰۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر صحیح البخاری جلد ۱۲ طرح کے اخلاص کا ایک واقعہ حضرت جابر بن عبد اللہ کا بھی ملتا ہے۔انہوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کو محسوس کیا اور گھر آکر کھانا تیار کروایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ صحابہ کو بھی لے آئے۔اس موقع پر بھی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہ سلوک ایک نرالی شان سے ظاہر ہوا اور چند لوگوں کا کھانا صحابہ کی ایک جماعت کے لیے کفایت کر گیا جن کی تعداد ایک ہزار بیان کی گئی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الخندق وهى الاحزاب، روایت نمبر ۴۱۰۲) اسی طرح کے اخلاص کی ایک مثال حضرت ابوالہیثم کی ملتی ہے۔واقعہ اس طرح ہوا کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھوک سے بے تاب ہو کر نکلے اور ایک مخلص صحابی حضرت ابو الہیثم کے گھر گئے۔وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ان کی اہلیہ نے ان معزز مہمانوں کو گھر بٹھایا۔اتنے میں حضرت ابو الہیثم بھی آگئے۔ضرورت کے مطابق فوری طور پر کھجوریں اور ٹھنڈا پانی پیش کیا۔پھر گھر میں موجود ایک بکری ذبح کر کے کھانا تیار کر وایا اور ان مقدس مہمانوں کی خدمت کی۔(جامع ترمذی، ابواب الزهد، باب ما جاء في معيشة اصحاب النبي ﷺ) صحابہ کے اخلاص کے نمونوں میں سے جانثاری کا ایک غیر معمولی واقعہ حضرت طلحہ کا ہے جنہوں نے غزوہ اُحد میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس چہرہ کی حفاظت کی۔اُس ہاتھ پر مسلسل تیر برستے رہے، یہاں تک کہ وہ شل ہو گیا۔مگر حضرت طلحہ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر گزند نہ آنے دی۔(صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ ، باب ذکر طلحة بن عبيد الله ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارے بادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جان نثاریاں کیں۔جلاوطن ہوئے، ظلم اٹھائے، طرح طرح کے مصائب برداشت کیے، جانیں دیں لیکن صدق و وفا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے۔پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جاں نثار بنادیا۔وہ کچی الہی محبت کا جوش تھا جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی۔اس لئے خواہ کسی نبی کے ساتھ مقابلہ کر لیا جاوے، آپ کی تعلیم، تزکیہ نفس، اپنے پیروؤں کو دنیا سے متنفر کر ادینا، شجاعت کے ساتھ صداقت کے لئے خون بہا دیتا، اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ہے۔اور ان میں جو باہمی الفت و محبت تھی اس کا نقشہ دو فقروں میں بیان فرمایا ہے: وَ أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمُ (الانفال: ۶۴) یعنی جو تالیف ان میں ہے وہ ہرگز پیدا نہ ہوتی خواہ