صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 203 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 203

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آج رات ہم خالی پیٹ رہیں گے۔چنانچہ اس نے وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ عَجِبَ اللهُ عَزَّ ایسا ہی کیا۔پھر صبح کو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ وَجَلَّ أَوْ ضَحِكَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ علیہ وسلم کے پاس گیا۔آپ نے فرمایا: اللہ عز و جل فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى فلاں مرد اور فلاں عورت سے بہت خوش ہوا،۔انْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔یا فرمایا: بہت ہنسا۔اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل كى وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ۔۔۔یعنی اور وہ اپنے (الحشر: ١٠) نفسوں پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں گو انہیں طرفه: ۳۷۹۸- خود بھوک ہی ہو۔مريح۔وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ : اور وہ اپنے نفسوں پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں۔زیر باب روایت نمبر ۴۸۸۹ میں جس شخص کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ذکر ہے، تشریح: امام ابن حجر اور علامہ عینی نے طبرانی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ اہل صفہ میں سے حضرت ابو ہریرہ تھے جن کی ضیافت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروں سے پتہ کروایا، مگر انتظام نہ ہو سکا۔پھر آپ نے مجلس میں بیٹھے افراد سے فرمایا کہ اس کی کون مہمان نوازی کرے گا۔حضرت ابو طلحہ نے عرض کی: یہ خدمت میرے سپرد کی جائے۔وہ اُنہیں ساتھ لے گئے اور مہمان نوازی اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ ان کی قربانی کی یہ مثال ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۰۵) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۲۲۸) حضرت ابو طلحہ اور ان کی اہلیہ حضرت اُم سلیم نہایت ہی مخلص گھرانہ تھا۔یہ خاندان خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔یہ حضرت ابو طلحہ ہی ہیں جنہوں نے کن تَنَالُوا الْبِر حَتى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ٩٣) کے نزول پر اپنے مال کا سب سے قیمتی اور پیار ا حصہ بی حاء نامی باغ اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں پیش کر دیا۔(صحيح البخاري، كتاب الزكوة، باب الزكاة على الأقارب، روایت نمبر (۱۴۶) یہ خاندان خدمت اور اخلاص میں اپنی مثال آپ ہے، ان سے اس قسم کے اخلاص کے نمونے کئی دفعہ چشم فلک نے دیکھے۔ایک موقع پر حضرت ابو طلحہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کی تکلیف کو محسوس کر کے گھر میں جو کچھ تھا پیش کر دیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت وجود سے ایسا اقتداری نشان ظاہر ہوا کہ چند لوگوں کا کھانا اسی سے زائد افراد کے لئے کفایت کر گیا۔(صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة فی الاسلام، روایت نمبر ۳۵۷۸) اسی صغیر : " تم کامل نیکی کو ہر گز نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے (خدا کے لیے) خرچ نہ کرو۔“ تفسیر