صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر اس سلسلہ مواخات کا اثر وراثت تک پر تھا۔چنانچہ یہ فیصلہ تھا کہ اگر کوئی انصاری فوت ہو تو اس کا ترکہ بحصہ رسدی اس کے بھائی مہاجر کو بھی ملے۔یہ سمجھوتہ جنگ بدر تک قائم رہا جس کے بعد یہ طریق وراثت خدا کی وحی کے ماتحت منسوخ ہو گیا اور صرف حقیقی رشتہ دار وارث قرار دئے گئے۔اس سلسلة مواخات میں حضرت ابو بکر خارجہ بن زید کے بھائی بنے، حضرت عمر عتبان بن مالک کے ، حضرت عثمان اوس بن ثابت کے ، ابو عبيدة بن الجراح سعد بن معاذ کے ، سعید بن زید ابی بن کعب کے ، سلمان فارسی ابو دردا کے ، مصعب بن عمیر ابو ایوب انصاری کے ، عمار بن یاسر حذیفہ بن یمان کے وغیر ذالک۔مواخات کا یہ سلسلہ کئی لحاظ سے مفید اور بابرکت ہوا: اول: جو پریشانی اور بے اطمینانی مہاجرین کے دلوں میں اس بے وطنی و بے سروسامانی کی حالت میں پید ا ہو سکتی تھی وہ اس سے بڑی حد تک محفوظ ہو گئے۔دوم رشتہ داروں اور عزیزوں سے علیحدگی کے نتیجہ میں جس تکلیف کے پیدا ہونے کا احتمال تھا وہ ان نئے روحانی رشتہ داروں کے مل جانے سے جو جسمانی رشتہ داروں کی نسبت بھی زیادہ محبت کرنے والے اور زیادہ وفادار تھے پیدا نہ ہوئی۔سوم: انصار و مہاجرین کے درمیان جو محبت و اتحاد مذ ہبی اور سیاسی اور تمدنی لحاظ سے ان ایام میں ضروری تھا وہ مضبوط ہو گیا۔چهارم: بعض غریب اور بے کار مہاجرین کے لیے ایک سہارا اور ذریعہ معاش پیدا ہو گیا “ (سیرت خاتم النبین ملا ای کم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، صفحہ ۳۰۹ تا ۳۱۱) بَاب ٦ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمُ (الحشر: ١٠) الآية ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) اور وہ اپنے نفسوں پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں الْخَصَاصَةُ الْفَاقَةُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: ١٠) خَصَاصَة کے معنی ہیں بھوک۔الْمُفْلِحُونَ کے الْفَائِزُونَ بِالْخُلُودِ، وَالْفَلَاحُ الْبَقَاءُ، معنی ہیں ہمیشہ کامیاب رہنے والے۔الفلاح کے (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، ذكر المؤاخاة بين الصحابة، جلد ۲ صفحہ ۱۹۳)