صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 200 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 200

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۰۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر مہاجرین عموما تجارت پیشہ تھے اور کھیتی باڑی کے کام سے قطعا ناواقف تھے ، بلکہ مکہ والے تو اس کام کو پسند بھی نہیں کرتے تھے اس لیے پھر انصار نے خود ہی یہ تجویز پیش کی کہ باغات کا انتظام اور محنت ہم کریں گے مگر ماحاصل میں سے مہاجرین کو حصہ مل جایا کرے۔چنانچہ اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا حتی کہ آہستہ آہستہ مہاجرین کی تجارتیں جن میں وہ مدینہ میں آکر مشغول ہو گئے تھے چل نکلیں اور ان کی اپنی جائیدادیں بھی بن گئیں اور انصار کی طرف سے امداد کی ضرورت نہ رہی۔لکھا ہے کہ جب مہاجرین نے انصار کی طرف سے اس غیر معمولی لطف و شفقت کو دیکھا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر انصار کے اس سلوک کی بہت تعریف کی اور کہا یا رسول اللہ ! انصار کی اس نیکی کو دیکھ کر ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں خدا سے سارا اجر وہی نہ لے جائیں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں ایسا نہیں ہو گا جب تک تم ان کی نیکی کے شکر گزار اور خدا کے حضور ان کے لیے دست بدعا ہو گے تم اجر سے محروم نہیں ہو سکتے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف سعد بن الربیع انصاری کے بھائی بنے تھے۔سعد نے اپنا سارا مال و متاع نصف گن گن کر عبد الرحمن بن عوف کے سامنے رکھ دیا اور جوش محبت میں یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں میں ان میں سے ایک کو طلاق دئے دیتا ہوں اور پھر اس کی عدت گذرنے پر تم اس کے ساتھ شادی کر لینا۔یہ سعد کی طرف سے جوش محبت کا ایک بے اختیاری اظہار تھا ورنہ وہ اور عبد الرحمن دونوں جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ عبد الرحمن بن عوف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدا یہ سب کچھ تمہیں مبارک کرے مجھے بازار کارستہ بتادو۔چنانچہ عبد الرحمن بن عوف نے تجارت شروع کی۔اور چونکہ وہ نہایت ہوشیار اور سمجھدار آدمی تھے آہستہ آہستہ ان کی تجارت چمک اٹھی اور بالآخر وہ ایک نہایت امیر کبیر آدمی بن گئے۔(صحيح البخارى، كتاب الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّعْرِيض عَلَيْهَا ، بَاب فَضْلِ المَنِيحَة، روایت نمبر ۲۶۳۰) (صحیح مسلم ، كِتَاب الْجِهَادِ وَ السّيرِ ، بَاب رَدِ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَا تَحِهُمْ ) (سنن ابی داود، كتابُ الْأَدَبِ، بَابٌ فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ)