صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 199
یح البخاری جلد ۱۲ ١٩٩ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر محْسِنِهِمْ وَيَعْفُوَ عَنْ مُّسِيئِهِمْ۔ہو اس کی قدر دانی کرے اور جو بُرا ہو اُس سے درگزر کرے۔أطرافه : ۱۳۹۲، ۳۰۵۲، ۳۱۶۲، ۳۷۰۰، ۷۳۲۸ تشریح: وَالَّذِينَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَالْإِيمَانَ : اور جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور ایمان قبول کر چکے تھے۔اس آیت میں انصارِ مدینہ کے اخلاص اور قربانی کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ روا رکھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس وقت مدینہ کے مسلمان دو حصوں میں منقسم تھے۔ایک تو وہ تھے جو مدینہ کے باشندے نہ تھے بلکہ مکہ یاکسی اور جگہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آباد ہو گئے تھے ، یہ لوگ بوجہ اپنی ہجرت کے مہاجرین کہلاتے تھے۔دوسرے وہ لوگ تھے جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔اور چونکہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مہاجرین کو پناہ دی تھی اور ان کی اعانت کا بیڑا اٹھایا تھا اس لیے وہ انصار کے نام سے موسوم ہوتے تھے۔مہاجرین عام طور پر مدینہ میں بالکل بے سر و سامان تھے۔کیونکہ غریب تو غریب تھے ہی، متمول مہاجرین بھی عموما اپنا سب مال و متاع وطن میں چھوڑ کر نکل آئے تھے۔انصار نے ان کے ساتھ حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا اور کوئی دقیقہ ان کی مہمان نوازی کا اٹھا نہیں رکھا۔لیکن اس رشتہ اخوت کو اور بھی مضبوط کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز فرمائی کہ انس بن مالک کے مکان پر انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اور باہم مناسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے دو دو کا جوڑا بنا کر انصار و مہاجرین کے کم و بیش نوے اشخاص کے درمیان با قاعدہ رشتہ اخوت قائم کر دیا۔اس سلسلہ مؤاخاة پر طرفین کی طرف سے جس محبت اور اخلاص اور وفاداری کے ساتھ عمل در آمد ہوا وہ آجکل کی حقیقی اخوت کو بھی شرماتا ہے۔انصار و مہاجرین بھائی بھائی کیا بنے گویا ایک جان دو قالب ہو گئے۔پہلی تجویز انصار نے اس رشتہ اخوت کے بعد یہ کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست پیش کی کہ آپ ہمارے باغات کو ہم میں اور ہمارے بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔لیکن چونکہ