صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 198
يح البخاری جلد ۱۲ 19A ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر يح : وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ : یعنی جو رسول تم کو دے اس پر عمل کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: " ما الكم الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: ۸) یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۶) نیز فرمایا: مَا الكُمُ الرَّسُول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں۔اول یہ تو دیکھ لینا چاہیئے کہ کوئی حدیث فی الواقع ما السکم میں داخل ہے یا نہیں۔ما اتسکم میں تو وہ داخل ہو گا جس کو ہم شناخت کر لیں کہ درحقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے ما التسکھر میں اس کو داخل کر دیں۔“ مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۷) بَاب ٥ : وَالَّذِينَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَالْإِيمَانَ (الحشر: ١٠) اور جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور ایمان قبول کر چکے تھے ٤٨٨٨ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۳۸۸۸ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ یعنی ابن عیاش نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ (بن عبد الرحمن) سے حصین نے عمرو بن میمون سے الله عَنْهُ أُوصِی روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ الْخَلِيفَةَ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ نے فرمایا: میں اپنے جانشین کو پہلے مہاجرین کے متعلق یہ وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے لیے ان يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأُوصِي الْخَلِيفَةَ کا حق پہچانیں اور اپنے جانشین کو اُن انصار کے بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوءُوا الدَّارَ متعلق کہ جو گھر میں آباد اور ایمان سنبھالے ہوئے وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُهَاجِرَ النَّبِيُّ تھے ، پیشتر اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ کرتے ، یہ وصیت کرتا ہوں کہ ان میں سے جو نیک