صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 197
صحیح البخاری جلد ۱۲ كَذَلِكَ مَا جَامَعْتُهَا ۔ ۱۹۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر سے رک جاؤ۔ وہ کہنے لگی: ہاں (یہ ضرور پڑھا ہے۔ حضرت عبداللہ نے) کہا: تو پھر رسول الله نے اس سے روکا ہے۔ وہ کہنے لگی: میں آپ کی بیوی کو دیکھتی ہوں وہ ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا: جاؤ اور دیکھو۔ وہ گئی اور اس نے دیکھا مگر اپنے مطلب کی بات کچھ نہ دیکھی۔ تو (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے) کہا: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہ سکتی۔ أطرافه: ۴۸۸۷، ۵۹۳۱، ٥۹۳۹، ٥٩٤٣، ٥٩٤٨۔ ٤٨٨٧ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۴۸۸۷: علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ ذَكَرْتُ بیان کیا کہ عبدالرحمن (بن مہدی) نے ہمیں لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ انہوں نے کہا: میں نے عبد الرحمن بن عابس سے عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ منصور کی اس حدیث کا ذکر کیا جو انہوں نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ الْوَاصِلَةَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ امْرَأَةٍ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں پیوند لگانے والی پر لعنت کی ہے۔ (عبدالرحمن بن عابس نے) کہا: میں نے مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ۔ یہ حدیث ایک عورت سے سنی جسے اُم یعقوب کہتے تھے۔ اس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے منصور کی حدیث کی طرح ہی حدیث بیان کی۔ أطرافه: ٤٨٨٦، ٥٩٣١ ، ٥٩٣٩، ٥٩٤٣، ٥٩٤٨۔ عمدة القاری کے مطابق اس جگہ لفظ ”جَامَعَتْنا“ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔