صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 195
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۹۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الحشر ليئة ناقص قسم کی کھجور ہے جسے دکل بھی کہتے ہیں۔اس کا پھل ادنیٰ قسم کا اور کھانے میں کم استعمال ہوتا ہے۔جو مدینہ منورہ کی ایک عمدہ قسم کی کھجور ہے اور بزنیہ بھی کھجور ہی کی ایک قسم ہے جو گول اور بہت عمدہ اور مزیدار ہوتی ہے۔جن کھجوروں کے درخت کاٹے گئے وہ عجوہ اور برنی نہیں تھیں بلکہ کھجور کی قسموں میں سے رڈی اور ناکارہ کھجوریں تھیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۶) بَاب : قَوْلُهُ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ ( الحشر : ٨) اللہ تعالی کا فرمانا: جو اللہ نے اپنے رسول کو بغیر کسی قسم کی مشقت کے عطا کیا ٤٨٨٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۳۸۸۵ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنِ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے کئی بار ہمیں بتایا۔الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ انہوں نے عمرو بن دینار ) سے ، عمرو نے زہری الْحَدَثَانِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سے ، زُہری نے مالک بن اوس بن حدثان سے، كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ مالک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔الله عَلى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: بنو نضیر کی جائیدادیں ان مالوں میں مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ سے تھیں جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بِخَيْلٍ وَّلَا رِكَابِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ کو بغیر کسی قسم کی مشقت کے عطا کیں۔یعنی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً يُنْفِقُ مسلمانوں نے ان کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ ثُمَّ يَجْعَلُ نہ اونٹ۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مَا بَقِيَ فِي السَّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةٌ لئے خاص تھیں۔آپ ان میں سے اپنے کنبے کو عَلَى فِي سَبِيلِ اللهِ۔اس کا سال بھر کا خرچ دے دیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا اس کو ہتھیار اور گھوڑوں کے خریدنے میں خرچ کرتے جو اللہ کی راہ میں بطور ساز و سامان کے ہوتے۔أطرافه: ٢٩٠٤، ۳۰۹٤ ۱۰۳۳، ۱۳۵۷، ۵۳۵۸، ۶۷۲۸، ۷۳۰۵-