صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 191
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۹۱ ٥٨ سُورَةُ الْمُجَادَلة ۶۵ - کتاب التفسير / المجادلة وَقَالَ مُجَاهِدٌ يُحَادُّونَ (المجادلة : ٦) مجاہد نے کہا: يُعادون کے معنی ہیں اللہ کی مخالفت يُشَاقُونَ اللهَ كَبِتُوا (المجادلة:1) أُخْزِبُوا کرتے ہیں۔کینوا کے معنی ہیں رُسوا کئے گئے۔مِنَ الْخِزْيِ اسْتَحوَذَ (المجادلة: ۲۰) استحوذ یعنی وہ غالب ہو گیا۔غَلَبَ۔تشريح : سُورَةُ الْمُجَادَلة: حضرت خلیفة السيح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سورۃ المجادلہ میں جو بار بار يُعادون اور حاد بیان فرمایا گیا ہے۔اس سے مراد روحانی طور پر ایک دوسرے کو پھاڑنا ہے۔اور مسلسل یہ ذکر ہے کہ جو لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی زخم پہنچاتے ہیں اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس غرض سے چھپ کر مشورے کرتے ہیں وہ تمام اپنے آپ کو ہلاک کرنے والی باتیں کرتے ہیں۔فرمایا: جو بھی اللہ اور رسول کو اپنے طعنوں سے چر کے لگاتے ہیں وہ نامراد ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ضرور غالب آئیں گے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ المجادلہ ، صفحہ ۱۰۰۲) كبتُوا کے معنی ہیں رسوا کئے گئے۔فرمایا: إِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّونَ اللهَ وَرَسُولَهُ كَبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنزَلْنَا أَيْتِ بَيِّنَةٍ وَلِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينَ) (المجادلة:1) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف جاتے ہیں وہ ذلیل کئے جائیں گے جس طرح اُن سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے۔اور ہم اپنے واضح احکام اُتار چکے ہیں۔اور جو لوگ ( ان واضح احکام کا انکار کریں گے اُن کو رسوا کرنے والا عذاب پہنچے گا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوتے ہیں رڈ کیسے جائیں گے جیسے کہ پہلے رڈ ہوئے اور ہم کھلے کھلے نشان اُتار چکے ہیں۔ان کے منکروں کے لیے اہانت کا عذاب ہے گویا ایک سبب ذلت کا اللہ اور اس کے فرستادہ کی (خواہ وہ کسی زمانہ میں ہو) مخالفت ہے اور خدا کے کھلے کھلے نشانوں کا انکار۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۹)