صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 190 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 190

صحیح البخاری جلد ۱۲ 19۔۶۵ - كتاب التفسير / الحديد 65 ایک عیسائی کے اعتراض کہ " قرآن نے خدا کا نام ظاہر یا تو صرف قافیہ بندی کے لئے لیا ہے یا ویدانتیوں کی مت پر مخلوق کو خدا کہا ہے کے جواب میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس آیت میں پہلا نام الاول ہے اور دوسرا نام الآخر۔یہ دونوں نام یسعیاہ ۴۴ باب ۶ میں موجود ہیں۔رب الافواج فرماتا ہے ” میں اول اور آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔“ تیسر ا نام اس آیت میں الظاھر اور چوتھا الباطن ہے۔ظاہر کے معنی لغت عرب میں غالب اور بڑے زور والے کے ہیں۔اور ظاہر اونچے کو بھی کہتے ہیں اور باطن مخفی کو۔اب دیکھو ٹھیک انہیں الفاظ کے مرادف معنی ایوب ا باب ۸۔وہ 33 تو آسمان اونچا تو کیا کر سکتا ہے؟ اور پاتال سے نیچے ہے تو کیا جان سکتا ہے۔“ اور حدیث صحیح میں اس آیت کی تفسیر خود افصح العرب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔هُوَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَهُ شَيئ یعنی جب مخلوق میں سے کسی موجود چیز کو دیکھو تو خدائے تعالیٰ کی ذات بابرکات اُس موجود مخلوق سے پہلے موجود ہے۔مخلوقات سے کوئی ایسی چیز نہیں جو خدا سے پہلے ہو۔هُوَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَهُ شَیخ یعنی ہر چیز کی فنا اور زوال کے بعد اُس کی ذات پاک موجود ہے۔ھو الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَهُ شَیئ یعنی ہر چیز سے اوپر اور غالب وہی ہے۔اُس سے اُوپر اور غالب کوئی شے نہیں۔هُوَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَهُ شَینی وہی پوشیدہ ہے۔سوا اس کے کوئی چیز نہیں ہے۔یہ تفسیر خوب واضح کرتی ہے کہ زبانِ عرب میں ان الفاظ کا مفہوم اور مرادیہ ہے اور وہی معتبر ہے۔“ (فصل الخطاب لمقدمۃ اھل الکتاب، حصہ اوّل صفحه ۱۶۷) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " قرآن شریف میں فرمایا ہے هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ (الحديد: ۴) یعنی خدا سب سے پہلے ہے اور باجود پہلے ہونے کے پھر سب سے آخر ہے اور وہ سب سے زیادہ ظاہر ہے اور پھر باوجود سب سے زیادہ ظاہر ہونے کے سب سے پوشیدہ ہے۔“ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰،۱۱۹)