صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 189 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 189

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الحديد گئے ہیں کہ ایک وقت میں خدا اکیلا تھا پھر جہان بنایا۔دیانندیوں نے بھی غلطی کی ہے کہ کہا کہ چار ارب سال ہو گیا۔حالانکہ اگر مہاں سنکھ کو مہاں سنکھ میں مہاں سنکھ دفعہ بھی ضرب دیں تب بھی خدا کی ہستی کا پتہ نہیں لگ سکتا۔مگر قربان جائیے الحمد شریف کے جس نے رب العالمین فرما کر فیصلہ کر دیا۔سب لوگوں نے جہان کی تاریخیں لکھیں مگر قرآن نے ان کو چھوڑ دیا۔عیسائی بڑے بے ہنگم مؤرخ ہیں۔سات آٹھ ہزار سے نیچے ہی رہتے ہیں۔پانڈوؤں کی لڑائی مسیح سے چار ہزار برس پہلے ہوئی۔قرآن کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے بنانے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔دراصل کوئی ہے ہی نہیں۔آج بھی اللہ اول ہے اور آج ہی آخر بھی ہے۔جس وقت وہ مجھ کو بنا رہا تھا نطفہ سے بھی پہلے۔بقول : ہم چو سبزہ بارہا روئیده ام کے جبکہ اناج تھا، پھر روٹی بنی، خون بنا، نطفہ بنا۔غرض کہ جس وقت وہ بنا رہا تھا، جتنا حصہ میرابن چکا تھا، ان سب وقتوں میں میری حفاظت فرماتا رہا۔وہ ہر چیز کے بنانے کے وقت اس کی ابتداء، اوسط اور انتہاء میں موجود ہوتا ہے۔اوّل: لَيْسَ قَبْلَهُ شَيخ (جس سے پہلے کوئی شئے نہ تھی) آخر : لَيْسَ بَعْدَهُ شَنی۔(جس کے بعد کوئی شئے نہیں) الظاهر : لَيْسَ فَوْقَهُ شَئ۔(اس پر کسی وقت کوئی حکمران نہیں) الباطن: لَيْسَ دُونَهُ شَى اللہ کی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت۔اس سے کوئی الگ چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی کوئی چیز نہیں جس پر اللہ کی ان صفات کا تسلط نہ ہو۔لوگوں نے اس بات پر ہنسی اڑائی ہے کہ تم ہمیشہ کا بہشت کس طرح لو گے جبکہ صرف خدا ہی پیچھے رہ جائے گا۔رب رحمن ، رحیم، مالک۔یہ چاروں صفتیں کبھی خالی نہیں رہتیں۔زمانہ ، ہر وقت فنا ہو تا رہتا ہے۔ماضی مر گیا، مستقبل دنیا پر آیا نہیں، حال کا کوئی زمانہ ہی نہیں۔یہ زمانہ جو ہر وقت فنا ہو تا رہتا ہے اس کے اول، آخر خدا ہی ہے۔ہر آن میں خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ معنی سوائے قرآن کریم کے اور کسی کو نہیں آتے۔“ حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۵۲،۵۱)