صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 188
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الحديد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب میں سے کسی نے سورۃ الحدید کی آیت وَ أَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ کا ذکر کر کے عرض کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حدید نے اپنا فعل باس شدید کا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کیا کہ اس سے سامان جنگ وغیرہ تیار ہو کر کام آتا تھا مگر اس کے فعل مَنَافِعُ لِلنَّاسِ کا وقت یہ مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا حدید (لوہے) سے فائدہ اُٹھا رہی ہے (جیسا کہ ریل، تار، دخانی جہاز ، کار خانوں اور ہر ایک قسم کے سامان لوہے سے ظاہر ہے“ حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ ” میں بھی سارے مضمون لوہے لو ہے ۔ کے قلم ہی سے لکھتا ہوں۔ مجھے بار بار قلم بنانے کی عادت نہیں ہے اس لئے لوہے کے قلم استعمال کرتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے سے کام لیا۔ ہم بھی لوہے ہی سے لے رہے ہیں اور وہی لو ہے کی قلم تلوار کا کام دے رہی ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۸۴) الظاهِرُ کے معنی ہیں کہ وہ علم معنی ہیں کہ وہ علم کی رُو سے ہر ایک چیز پر عیاں ہے۔ اور الْبَاطِنُ کے معنی ہیں کہ علم کی رُو سے ہر ایک چیز سے چھپا ہوا ہے۔ یہ معنی یحي الفراء سے منقول ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۰۰) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الحدید: ۴) وہی اول اور وہی آخر ، وہی ظاہر اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا دائمی علم رکھتا ہے۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کا آغاز اس اعلان کے ساتھ ہوتا ہے کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ ہی کی تسبیح کر رہے ہیں اور اول بھی وہی ہے اور آخر بھی وہی اور ظاہر بھی وہی اور باطن بھی وہی۔ یعنی اس کے جلوے ظاہر وباہر ہیں مگر جو آنکھ ان کو نہ دیکھ سکے اس کے لئے وہ ہمیشہ باطن ہی رہیں گے۔“ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الحدید، صفحه ۹۹۳) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی چار صفتیں ہر وقت رہتی ہیں۔ اللہ اول ہے اور جس وقت وہ اوّل ہے اسی وقت آخر بھی ہے اور ظاہر بھی اور باطن بھی۔ هُوَ الْأَوَّلُ کے یہ معنی غلط کئے