صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 187 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 187

صحیح البخاری جلد ۱۲ JAZ -۶۵- كتاب التفسير / الحديد جنت اور جہنم بس رہے ہیں اور ایک کا دوسرے سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اس سے واضح طور پر ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانہ میں ایک Relativity کا تصور عطا فرمایا گیا تھا یعنی ایک ہی جگہ میں ہوتے ہوئے Dimension بدل جانے سے دو چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق قائم نہیں رہتا۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الحدید ، صفحہ ۹۹۳) فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلناس: ابن ابی نجیح نے اس سے مراد ڈھالیں اور ہتھیار لیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۹۹) فرماتا ہے: وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُه (الحدید: ۲۶) اور ہم نے لوہا اُتارا جس میں سخت لڑائی کا سامان اور انسانوں کے لئے بہت سے فوائد ہیں تاکہ اللہ اسے جان لے جو اُس کی اور اس کے رسولوں کی غیب میں بھی مدد کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سورۃ الحدید کی مرکزی آیت وہ ہے جس میں اعلان فرمایا گیا کہ ہم نے لوہے کو نازل فرمایا۔لفظ نزول کا جو ترجمہ عامۃ الناس کرتے ہیں اس کی رُو سے لوہا گویا آسمان سے برسا ہے حالانکہ وہ زمین کی گہرائیوں سے کھود کر نکالا جاتا ہے۔اس آیت کریمہ سے لفظ نزول کی اصل حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ وہ چیز جو اپنی جنس میں سب سے زیادہ فائدہ مند ہے اس کے لئے قرآن کریم میں لفظ نزول استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اسی پہلو سے مویشیوں کے متعلق بھی نزول کا لفظ آیا ہے، لباس کے متعلق بھی نزول کا لفظ آیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُم ذكراه رَسُولًا (الطلاق: ۱۱، ۱۲) کہ یقیناً الله نے تمہاری طرف مجسم ذکر الہی رسول نازل کیا ہے۔اور تمام علماء متفق ہیں کہ ظاہری بدن کے ساتھ آپ آسمان سے نہیں اترے۔پس سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ تمام رسولوں سے بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ فیضان پہنچانے والا رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الحدید، صفحه ۹۹۳، ۹۹۴)