صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 186 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 186

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الحديد ٥٧ سُورَةُ الْحَدِيدِ قَالَ مُجَاهِدٌ جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ مجاہد نے کہا: جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ سے مراد ہے (الحديد: ۸) مُعَمَّرِينَ فِيهِ مِنَ الظُّلُمتِ کہ تم کو اس میں آباد کیا۔ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ إلَى النُّورِ (الحديد: ١٠) مِنَ الضَّلَالَةِ کے معنی ہیں گمراہی سے راست روی کی طرف۔ إِلَى الْهُدَى فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ يد و مَنَافِعُ لِلنَّاسِ سے مراد ہے للنَّاسِ (الحديد: ٢٦) جُنَّةً وَسِلَاحٌ ڈھالیں اور ہتھیار۔ مولیکھ کے معنی ہیں (آگ) مولكم (الحديد: ١٦) أَوْلَى بِكُمْ لِئَلَّا تمہارے زیادہ سزاوار ہے۔ لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتٰبِ (الحديد: ٣٠) لِيَعْلَمَ الكتب یعنی تا کہ اہل کتاب جان لیں ۔ (لاء زائده أَهْلُ الْكِتَابِ يُقَالُ الظَّاهِرُ (الحديد: ٤) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الظاھر کے معنی یہ بھی کئے عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا وَالْبَاطِنُ جاتے ہیں کہ وہ علم کی رُو سے ہر ایک چیز پر عیاں ہے۔ اور الْبَاطِنُ کے معنی ہیں کہ علم کی رُو (الحديد: ٤) عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا۔ سے ہر ایک چیز سے چھپا ہوا۔ انظرونا کے معنی ہیں أَنْظِرُونَا انْتَظِرُونَا ۔ ہمارا انتظار کرو۔ تشريح : سُورَةُ الحديد: حضرت خلیفة المح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسی سورت میں یہ عظیم الشان آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات روشن فرمادی تھی کہ جنت اور جہنم کا ظاہری تصور درست نہیں۔ چنانچہ آیت کریمہ نمبر ۲۲ میں فرمایا کہ اللہ تعالی کی مغفرت اور اس کی اس جنت کی طرف پیش قدمی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو جس جنت کی وسعت زمین و آسمان پر محیط ہے۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ایک صحابی نے سوال کیا کہ یا رسول الله ؟! اگر جنت ساری کائنات پر پھیلی ہوئی ہے تو جہنم کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی وہیں ہوگی۔ یعنی اسی کائنات کی وسعتوں میں موجود ہو گی جس میں جنت ہے لیکن تمہیں اس بات کا شعور نہیں ہے کہ یہ کیسے ہو گا۔ ایک ہی جگہ