صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 185
صحیح البخاری جلد ۱۲ 1AQ ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة خدا کی محبت اور پیار کی غذا کھاتے تھے۔اب جسمانی شکل پر وہی غذا ان کو ملے گی اور چونکہ وہ پریت اور محبت کا مزہ چکھ چکے تھے اور اس کیفیت سے آگاہ تھے۔اس لئے ان کی روح کو وہ زمانہ یاد آجائے گا کہ جب وہ گوشوں اور خلوتوں میں اور رات کے اندھیروں میں محبت کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی کو یاد کرتے اور اس یاد سے لذت اٹھاتے تھے۔غرض اس جگہ جسمانی غذاؤں کا کچھ ذکر نہیں۔اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ جبکہ روحانی طور پر عارفوں کو یہ غذا دنیا میں مل چکی تھی تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی نعمتیں ہیں کہ نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں نہ سنیں اور نہ کسی کے دل میں گذریں۔اور اس صورت میں ان دونوں آیتوں میں تناقض پایا جاتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ تناقض اس صورت میں ہوتا کہ جب اس آیت میں دنیا کی نعمتیں مراد ہو تیں لیکن جب اس جگہ دنیا کی نعمتیں مراد نہیں ہیں۔جو کچھ عارف کو معرفت کے رنگ میں ملتا ہے وہ در حقیقت دوسرے جہان کی نعمت ہوتی ہے جس کا نمونہ شوق دلانے کے لئے پہلے ہی دیا جاتا ہے۔66 اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۹۸ ۴۰۰)