صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 184 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 184

حیح البخاری جلد ۱۲ IAM ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة ڈالیں گے۔کیا ایسے خیالات اس تعلیم سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں جس میں یہ آیتیں موجود ہیں کہ دنیا نے ان چیزوں کو کبھی نہیں دیکھا اور وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت بڑھاتی ہیں اور روحانی غذائیں ہیں۔گوان غذاؤں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر ساتھ ساتھ بتایا گیا ہے کہ انکا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔کوئی یہ گمان نہ کرے کہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے یہ پایا جاتا ہے کہ جو جو نعمتیں بہشت میں دی جائیں گی ان نعمتوں کو دیکھ کر بہشتی لوگ انکو شناخت کرلیں گے کہ یہی نعمتیں ہمیں پہلے بھی ملی تھیں۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ أَنَّ لَهُم جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (البقرۃ:۲۶) یعنی جو لوگ ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں جن میں ذرہ فساد نہیں۔ان کو خوشخبری دے کہ وہ اس بہشت کے وارث ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں میں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کو مل چکے تھے پائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو ہمیں پہلے ہی دیئے گئے تھے۔کیونکہ وہ ان پھلوں کو ان پہلے پھلوں سے مشابہ پائیں گے۔اب یہ گمان کہ پہلے پھلوں سے مراد دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں بالکل غلطی ہے اور آیت کے بدیہی معنے اور اس کے منطوق کے بالکل بر خلاف ہے۔بلکہ اللہ جل شانہ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا ہے جس کے درخت ایمان اور جس کی نہریں اعمال صالحہ ہیں۔اسی بہشت کا وہ آئندہ بھی پھل کھائیں گے اور وہ پھل زیادہ نمایاں اور شیریں ہو گا۔اور چونکہ وہ روحانی طور پر اسی پھل کو دنیا میں کھا چکے ہوں گے اس لئے دوسری دنیا میں اس پھل کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں کہ جو پہلے ہمارے کھانے میں آچکے ہیں اور اس پھل کو اس پہلی خوراک سے مشابہ پائیں گے۔سو یہ آیت صریح بتا رہی ہے کہ جو لوگ دنیا میں