صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 183 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 183

صحیح البخاری جلد ۱۲ 7971 ممدود۔(الواقعة : ۳۱) طرفه: ٣٢٥٢- IAM ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة رہے گا، اس کو طے کرنے میں نہیں آئے گا اور اگر تم چاہو تو ( یہ آیت) پڑھو: وَظِلٌ قَدُود۔اور ایسی چھاؤں میں جو بہت لمبی ہو گی) تشریح وظل ممدود: یعنی اور ایسی چھاؤں میں جو بہت لمبی ہو گی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” جنت کی نعمتیں مَا لَا يُتَصَوَّرُ وَلَمْ يَخْطُرُ بِبَالِ أَحَدٍ کا مصداق ہیں۔ان کا تصور اس زندگی میں نہیں کیا جا سکتا سوا اس کے کہ موعودہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مشابہ ہوں گی۔جیسا کہ حضرت ابن عباس کا اس بارے میں یہ قول مروی ہے : ليس في الدُّنْيَا مِمَّا فِي الْجَنَّةِ إِلَّا الْأَسْمَاءُ (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۸۶) یعنی صرف نام کا اشتراک ہے۔ان نعمتوں کی حقیقت کچھ اور ہی ہو گی۔اللہ تعالیٰ سورہ سجدہ میں فرماتا ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمُ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (السجدة: ۱۸) اور (حقیقت یہ ہے کہ) کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان (مومنوں) کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ میں کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں (جنت میں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔** ह (صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب بدء الخلق، جلد ۶ صفحه ۸۲) ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور اس کی نعماء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: مَالًا عَيْن رَأَتُ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطرَ عَلَ قَلْبِ بَغیر۔یعنی وہ جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اُن کا خیال گزرا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جبکہ خدا اور رسول اس کا ان چیزوں کو ایک نرالی چیزیں بتلاتا ہے تو ہم قرآن سے دور جا پڑتے ہیں۔اگر یہ گمان کریں کہ بہشت میں بھی دنیا کا ہی دودھ ہو گا جو گائیوں اور بھینسوں سے دوہا جاتا ہے۔گویا دودھ دینے والے جانوروں کے وہاں ریوڑ کے ریوڑ موجود ہوں گے۔اور درختوں پر شہد کی مکھیوں نے بہت سے چھتے لگائے ہوئے ہونگے اور فرشتے تلاش کر کے وہ شہر نکالیں گے اور نہروں میں (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الجَنَّةِ وَأَنهَا مَخْلُوقَةٌ، روایت نمبر ۳۲۴۴)