صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 182
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸۲ ۶۵ کتاب التفسير / الواقعة علم ہو کہ وہ چھوٹے چھوٹے سے نظر آنے والے نجوم ہیں کیا چیز تو تم دنگ رہ جاؤ کہ یہ نجوم تو اتنے بڑے بڑے ہیں کہ چاند اور سورج اور زمین اور سیارے بھی ان نجوم کے ایک کنارے میں سما سکتے ہیں۔پس فرمایا یہ بہت بڑی گواہی ہے جو ہم دے رہے ہیں۔ان گواہیوں کے بعد یہ فرمایا گیا کہ قرآن کریم بھی ایک چھپی ہوئی کتاب ہے۔جیسے ستارے دُور ہونے کی وجہ سے تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اسی طرح قرآن کریم کی رفعتوں کو بھی تمہاری نظر نہیں پاسکتی اور تم اسے چھوٹی سی کتاب دیکھتے ہو۔اور پھر یہ بھی فرمایا گیا کہ بظاہر تو تم اسے چھو بھی سکتے ہو یعنی تم اس کے اتنے قریب ہو کہ اسے ہاتھ بھی لگا سکتے ہو لیکن سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل کو پاک کرے وہ اس کے مضامین کو نہیں چھو سکتا۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الواقعہ ، صفحہ ۹۸۴) مدھنُون کے معنی ہیں جھٹلانے والے۔اور آدھن اور دَاهَن ایک ہی ہیں اور اس کی اصل دُھن ہے جس کے معنی تیل یا چکنائی کے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۲۰) اس سے مراد منافق ہیں جو کبھی کفر کی طرف پھسل کر چلے جاتے ہیں اور کبھی ایمان کی طرف۔7974 بَاب ۱ : وظل ممدود (الواقعة : ۳۱) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور ایسی چھاؤں میں جو بہت لمبی ہو گی ٤٨٨١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۳۸۸۱ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله ابوالزناد سے ، ابوالزناد نے اعرج سے ، اعرج نے عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً وہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلّهَا مِائَةَ عَامٍ ہیں۔آپ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت لَا يَقْطَعُهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلَّ ہے جس کے سایہ کے نیچے سوار سو برس تک چلتا