صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 181 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 181

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۸۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة ھیم اونٹوں کی ایک بیماری ہے جس میں اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی اور وہ پیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه (۲۱۸) لَمُغْرَمُونَ : یعنی وہ جن پر چٹی ڈالی گئی۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ غرام کے معنی عذاب کے ہیں۔ مُغْرَمُون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عذاب دیا گیا۔ اور ہمدانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا محاسبہ کیا گیا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۲۱۸) تفكهون : یعنی تم تعجب کرتے ہو۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ تم ملامت کرتے ہو۔ حسن کہتے ہیں اس سے مراد ہے کہ تم ندامت محسوس کرتے ہو اور ابن کیسان نے اس کا معنی تحزنون کیا ہے۔ یعنی تم غم کرتے ہو۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ اس کے ایک معنی ہیں مجھے نعمت مل گئی۔ اور ایک معنی ہیں میں غمگین ہوا۔ الشفعہ کا مطلب ہے لایعنی بات کرنا۔ اور مزاح کو فاکہ کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۱۹) خَافِضَةٌ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ (الواقعة : ۴) یعنی وہ بعض کو نیچا کرنے والی اور بعض کو اونچا کرنے والی ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یعنی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ کرنے والی گھڑی ضرور آئے گی۔ کا فرکتنی ہی تدبیریں کریں اس کو اپنے وقت سے ٹلا نہیں سکتے۔ اور جب وہ آئے گی تو بعض کو نیچا کر دے گی اور بعض کو اونچا کر دے گی۔ یعنی کا فر آج غالب ہیں اُس دن مغلوب ہو جائیں گے اور مسلمان آج مغلوب ہیں اُس دن غالب ہو جائیں گے۔“ (تفسیر صغیر، سورۃ الواقعہ حاشیہ آیت (۴) لِلْمُقْوِین کے معنی ہیں مسافروں کے لئے ۔ القِی وَالْقَوَاء سے مراد آبادی اور رہنے والوں سے خالی جگہ ہے۔ يُقال: أَقُوتِ النَّارُ إِذَا خَلَتْ مِنْ سُكَانِهَا - یعنی گھر جب مکینوں سے خالی ہو گیا۔ قطرب کہتے ہیں: لفظ الْمُقْوِی اضداد میں سے ہے اس کے معنی غنی کے بھی ہیں اور فقیر کے بھی۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۲۰) بمواقع النجوم : یعنی قرآن کی محکم آیتیں۔ یہ معنی حضرت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ اس کے علاوہ ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۹۸) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تھا کہ نجوم ”پھر ”مواقع النجوم“ کو گواہ ٹھہرایا گیا۔ اُس زمانہ کا انسان تو سمجھتا تھا چھوٹے چھوٹے چمکنے والے موتی یا پتھر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہیں