صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 180 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 180

صحیح البخاری جلد ۱۲ IA+ ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة یعنی وہ پسے ہوئے میدہ کی طرح ہو گئی۔اہل عرب میدہ کو بسيسة کہتے ہیں۔ابن مسیب نے کہا کہ بشت کے معنی ہیں اس کو اچھی طرح توڑا گیا اور حسن نے کہا: بست کے معنی ہیں اس کو جڑ سے اکھیڑ دیا گیا۔اور عطیہ نے کہا: ریت اور مٹی کی طرح جسے بچھایا گیا ہو۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۱۷) ثلة: یعنی گروہ۔فرماتا ہے : ثلةُ مِنَ الْأَوَّلِينَ (الواقعة : ۴۰) یعنی یہ گروہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں میں سے بھی کثرت سے ہو گا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر اپنی اُمت کے حق میں فرما دیا تھا کہ تم آخری زمانہ میں بکلی یہودیوں کے قدم پر قدم رکھ کر یہودی بن جاؤ گے اور یہ بلائیں آخری زمانہ میں سب سے زیادہ مشرقی ملکوں میں پھیلیں گی یعنی ہندوستان و خراسان وغیرہ میں ، تب اس یہودیت کی بیخ کنی کے لئے مسیح ابن مریم نازل ہو گا یعنی مامور ہو کر آئے گا۔اور فرمایا کہ جیسا کہ یہ اُمت یہودی بن جائے گی ایسا ہی ابن مریم بھی اپنی صورت مثالی میں اسی اُمت میں سے پیدا ہو گا نہ یہ کہ یہودی تو یہ امت بنی اور ابن مریم بنی اسرائیل میں سے آوے۔ایسا خیال کرنے میں سراسر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے اور نیز آیت ثُنَةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقُلةُ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعه : ۴۱،۴۰) کے برخلاف نیز فرمایا: " (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۱۹، ۴۲۰) ”کیا تم وہ باتیں یاد نہیں کرتے جو عالم الغیب نے کہیں اور اس نے تمہیں ایک آنے والے امام کی قرآن کریم میں خبر دی ہے۔اور کہا کہ ایک گروہ پہلوں میں سے اور ایک گروہ پچھلوں میں سے ہو گا۔اور ہر ایک گروہ کے لئے ایک امام ہوتا ہے سو، سوچو کیا اس میں کوئی کلام ہے سو تم امام الآخرین سے کہاں بھاگتے ہو۔“ نور الحق حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۷) الهيم : دماء کی جمع ہے۔کہا جاتا ہے: بحمل أَهْيَمُ وَنَاقَةُ هَمَاءُ۔اس کے معنی ہیں پیاسے اونٹ۔قتادہ کہتے ہیں: ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” پہلوں میں سے ایک بڑی جماعت ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہے۔“