صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة لَهُ كَقَوْلِكَ فَسَقْيًا مِّنَ الرِّجَالِ إِنْ کہے کہ میں تھوڑی دیر میں سفر کرنے والا ہوں رَفَعْتَ السَّلَامَ فَهُوَ مِنَ الدُّعَاءِ کہتے ہو : أَنْتَ مُصَدِّقٌ وَمُسَافِرُ عَنْ قَلِيل۔ اور تُورُونَ (الواقعة: ۷۲) تَسْتَخْرِجُونَ، کبھی (سلام کا لفظ) اس کے لئے بطور دعا کے بھی أَوْرَيْتُ أَوْ قَدْتُ لَغُوا (الواقعة : ٢٦) مستعمل ہوتا ہے، جیسے تم کہتے ہو : فَسَقْيًا من بَاطِلًا تَأْثِيمًا ( الواقعة : ٢٦) كَذِبًا۔ الرِّجَالِ یعنی اُن لوگوں میں سے اللہ تمہیں سیراب کرے۔ اگر تم لفظ سلام پر پیش پڑھو تو پھر یہ دعا ہو گی۔ تُورُونَ کے معنی ہیں تم (آگ) نکالتے ہو اور اوریت میں نے آگ سلگائی۔ لغوا کے معنی ہیں بیہودہ۔ تاثیما کے معنی ہیں جھوٹ۔ تشريح : سُورَةُ الْوَاقِعة: حضرت خلیفة الحب الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وو مرنے کے بعد جی اٹھنے کی خبریں اس سورت میں بیان فرمائی گئی ہیں جو لازما وقوع پذیر ہوں گی۔ اس کے بعد اسلام کے دور اول میں قربانی کرنیوالوں اور دور آخر میں قربانی کرنے والوں کا موازنہ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اول دور میں دین کیلئے قربانیاں پیش کریں گے اور آخری دور میں قربانیاں پیش کریں گے ان میں سے بکثرت آپس میں قربانیوں میں مشابہ ہوں گے اور انہیں ایک جیسے درجات عطا کئے جائیں گے۔ لیکن اول دور کے بہت سے قربانیاں کرنے والوں کو قربانیوں میں اور ایثار میں بعد میں آنے والوں پر عدد اور رتبہ کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہو گی۔ لیکن بعد کے دور میں بھی کچھ ضرور ہوں گے جنہیں رتبہ کی وہ فضیلتیں عطا ہوں گی جو پہلے دور والوں کو عطا کی گئیں۔“ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الواقعہ ، صفحہ ۹۸۳) رجت کے معنی ہیں وہ ہلائی گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِذَا رُجَتِ الْأَرْضُ رَبَّان (الواقعة: ۵) یعنی جس دن ملک کو ہلا دیا جائے گا۔ لغت میں رنج کے معنی ہلانے اور حرکت دینے کے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۱۷) بست کے معنی ہیں چور چور کی گئی اور ملا دی گئی اسی طرح جس طرح ستو ملائے جاتے ہیں۔ فرماتا ہے: وبست الْجِبَالُ بَسان (الواقعة :(۶) یعنی اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔ بُست اور لنت کے ایک ہی معنی ہیں۔