صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 178 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 178

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة فِي خَافِضَةٌ (الواقعة : ٤) لِقَوْمٍ إِلَى نیچے لے جانے والی اور رافعہ کے معنی جنت کی النَّارِ وَ رَافِعَةٌ (الواقعة : ٤) إِلَى الْجَنَّةِ۔ طرف اُٹھالے جانے والی مَوْضُونَةٍ کے معنی ہیں مَوْضُونَةٍ (الواقعة : ١٦) مَنْسُوجَةٍ وَمِنْهُ بُنے ہوئے، اس سے ہے وَضِينَ النَّاقَةِ یعنی اونٹنی وَضِينُ النَّاقَةِ وَالْكُوبُ لَا آذَانَ لَهُ وَلَا کا زیر بند۔ اور گوب کے معنی ہیں آبخورہ جس میں عُرْوَةَ وَالْأَبَارِيقُ ذَوَاتُ الْآذَانِ وَالْعُرَى نہ ٹونٹی ہو نہ کنڈا۔ اور باریق وہ کوزے جن کی مَسْكُوبِ (الواقعة: ٣٢) جَارٍ وَفُرش ٹونٹیاں اور کنڈے ہوں۔ منگوں کے معنی ہیں بہتا ہوا۔ فرشِ مَرْفُوعَةٍ یعنی اونچے بچھونے جو مرْفُوعَةٍ ( الواقعة : ٣٥) بَعْضُهَا فَوْقَ ایک دوسرے کے اوپر ہوں۔ مُتْرَفِينَ کے بَعْضٍ مُتْرَفِينَ (الواقعة : ٤٦) مُتَمَتِعِينَ معنی ہیں آسودہ حال۔ مَا تُمنون سے مراد وہ مَا تُمْنُونَ (الواقعة : ٥٩) هِيَ النُّطْفَةُ نطفہ ہے جو عورتوں کے رحموں میں ڈالا جاتا ہے۔ فِي أَرْحَامِ النِّسَاءِ لِلْمُقْوِينَ (الواقعة : ٧٤) لِلْمُقْوِينَ کے معنی ہیں مسافروں کے لئے اور الفی لِلْمُسَافِرِينَ، وَالْقِيُّ الْقَفْرُ بِمَواقِع کے معنی ہیں بے آب و گیاہ بیابان ۔ مَوَاقِعُ النُّجُوم النُّجُومِ (الواقعة : ٧٦) بِمُحْكَمِ الْقُرْآنِ سے مراد ہے قرآن کی محکم آیتیں۔ نیز کہا جاتا وَيُقَالُ بِمَسْقِطِ النُّجُومِ إِذَا سَقَطْنَ ہے ستاروں کے گرنے کی جگہ جب وہ گریں۔ اور وَمَوَاقِعُ وَمَوْقِعٌ وَاحِدٌ مُدْهِنُونَ مَوَاقِعُ اور موقع کے ایک ہی معنی ہیں۔ (جائے (الواقعة: ۸۲) مُكَذِّبُونَ مِثْلُ لَوْتُدْهِنُ وقوع) مُدْهِنُونَ کے معنی ہیں جھٹلانے والے۔ فَيُدْهِنُونَ (القلم : ١٠) فَسَلَمُ لَكَ جیسے (اس آیت : آیت میں ہے : کو لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ یعنی کہ تو اپنے دین میں کچھ نرمی کرے تو وہ بھی اپنے طریق میں کچھ نرمی کریں۔ فَسَلم لك مِنْ أَصْحُبِ الْيَمِينِ وَالْعِيَتْ إِنَّ کے معنی ہیں مُسلَّم لَک یعنی یہ بات مان لی جائے وَهُوَ مَعْنَاهَا كَمَا تَقُولُ أَنْتَ مُصَدَّق گی کہ تو بھی اصحاب الیمین سے ہے۔ (اس وَمُسَافِرٌ عَنْ قَلِيلٍ إِذَا كَانَ قَدْ قَالَ إِنِّي آیت میں) ان کا لفظ گرادیا گیا ہے، مگر یہ اس مُسَافِرٌ عَنْ قَلِيلٍ وَقَدْ يَكُونُ كَالدُّعَاءِ کے معنوں میں ہے جیسا کہ تم اس شخص کے شخص کو جو یہ (الواقعة: ٩٢) أَيْ مُسَلَّمٌ لَكَ، إِنَّكَ ا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ " أُلْقِيَت“ ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ ا جزء ۸ حاشیه صفحه ۷۹۶)