صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 177 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 177

صحیح البخاری جلد ۱۲ 122 ٥٦ سُورَةُ الْوَاقِعَة ۶۵ - کتاب التفسير / الواقعة وَقَالَ مُجَاهِدٌ رُجت (الواقعة: ) اور مجاہد نے کہا: رُحجت کے معنی ہیں وہ ہلائی گئی۔زُلْزِلَتْ بُست (الواقعة: ٦) فُتَتْ وَلُتَتْ بُست کے معنی ہیں چور چور کی گئی اور ملا دی گئی اسی كَمَا يُلَتْ السَّوِيقُ الْمَخْضُودُ { الْمُوقَرُ طرح جس طرح ستو ملائے جاتے ہیں۔مخضود کے حَمْلًا وَيُقَالُ أَيْضًا } لَا شَوْكَ لَهُ۔معنی ہیں بوجھ سے لدھا ہوا، اور ایسا ہی اس درخت مَنْضُودٍ (الواقعة: ٣٠) الْمَوْزُ، وَالْعُرُبُ کو بھی کہتے ہیں کہ جس میں کوئی کا نشانہ ہو۔مَنْضُودٍ الْمُحَيَّاتُ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ ثُلَّه سے مراد تہہ بہ تہہ کیلے ہیں۔اور غرب وہ عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں کو پیاری ہوں۔تلہ یعنی (الواقعة: ٤٠) أُمَّةً يَخمُوم (الواقعة: ٤٤) گروه يَخمُوم سے مراد ہے کالا دھواں۔يُصِرُّونَ دُخَانٌ أَسْوَدُ۔يُصِرُّونَ (الواقعة : ٤٧) کے معنی ہیں وہ آڑے ہوئے ہیں۔انھیم کے معنی يُدِيمُونَ الْهِيم (الواقعة: ٥٦) الْإِبِل ہیں پیاسے اونٹ۔لمغرمُونَ یعنی وہ جن پر چھٹی الظُّمَاءُ لَمُغْرَمُونَ (الواقعة : ٦٧) ڈالی گئی۔مَدِینِینَ کے معنی ہیں جن سے حساب لَمُلزَمُونَ مَدِينِينَ (الواقعة : ۸۷ لیا جائے گا۔روح کے معنی ہیں جنت اور آسائش۔مُحَاسَبِينَ۔رَوْحُ جَنَّةٌ وَرَخَاءُ، وَ اور ریحان کے معنی ہیں رزق۔وَنُنَشِتَكُمْ فِي مَا ريحان (الواقعة: ٩٠) الرِّزْقُ لَا تَعْلَمُونَ یعنی جس پیدائش میں ہم چاہیں گے تم وَنُنشِتَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ (الواقعة : ٦٢) کو پیدا کریں گے۔اور (مجاہد کے سوا) اوروں نے کہا: تفكهون یعنی تم تعجب کرتے ہو۔عُرُ باراء کی پیش کے ساتھ ہے۔(یعنی خوبصورت ، نازنین، پیاری عورت ) اس کا مفرد عُرُوب ہے جیسے صبور اور صبر۔اہل مکہ ایسی (خوبصورت) عورت کو عَرُوبٌ مِثْلُ صَبُورٍ وَصُبُرٍ يُسَمِّيهَا عَرِبَة کہتے ہیں اور مدینہ والے غنجة کہتے ہیں اور أَهْلُ مَكَّةَ الْعَرِبَةَ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ عراق والے کہتے ہیں شکلة۔اور انہوں نے الْغَنِجَةَ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ الشَّكِلَةَ۔وَقَالَ خَافِضَةٌ کے معنی یہ کئے کہ ایک قوم کو آگ میں فِي أَي خَلْقٍ نَّشَاءُ وَقَالَ غَيْرُهُ تَفَكَهُونَ (الواقعة : ٦٦) تَعْجَبُونَ۔عُرُبًا (الواقعة : ٣٨) مُثَقَّلَةٌ وَاحِدُهَا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۹۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔