صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 176 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 176

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن ٤٨٨٠ : وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا ۴۸۸۰ اور دو جنت چاندی کے ہوں گے ، ان وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ كَذَا آنِيَتُهُمَا کے برتن بھی اور جو سامان ان میں ہے وہ سب وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ بھی۔ اور دو جنت ایسے ہوں گے کہ اُن کے بر تن يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ بھی اور جو سامان ان کے اندر ہے وہ بھی (سونے کا ہو گا۔) اور جنت عدن میں لوگوں کے سامنے عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ۔ أطرافة: ٤٨٧٨، ٧٤٤٤- اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی روک نہ ہو گی سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کی چہرے پر ہو گی۔ تشریح : حُورٌ مَقْصُورَت فِي الْخِيَامِ : وہ عورتیں کالی آنکھوں والی ہوں گی (اور) خیموں کے اندر رکھی گئی ہوں گی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اس سورۃ کے تعارف میں فرماتے ہیں: دو جہنم کے تمثیلی بیان کے ذکر کے بعد پھر جنت کا تمثیلی بیان شروع ہوتا ہے۔ قارئین کو متنبہ رہنا چاہئے کہ ہر گز اس بیان کا ظاہری مطلب لینے کی کوشش نہ کریں۔ یہ تمام تر ایک تمثیلی زبان ہے۔ اس پر غور کرنے سے اہلِ فکر کو عرفان گا اور کچھ بھی کے نئے نئے موٹی عطا ہو۔ سکتے ہیں ورنہ ان ان کا دماغ بہکتا پھرے گا اور کیا حاصل نہ ہو گا سوائے جنت کے ایک مادی تصور کے جس میں بہت سی باتوں کا کوئی حل انہیں معلوم نہ ہو سکے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کا نام بے حد برکتوں والا ہے۔ اس کی برکات کا شمار ممکن نہیں۔ وہ ذُو الْجَلَالِ وَالإِ گرام ہے۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الرحمٰن صفحه ۹۷۴)