صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 175
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۵ ۶۵ -٢ کتاب التفسير / الرحمن طرح متوجہ رہے۔اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس معنی میں مطہرہ ہوں کہ کوئی بدرسم ان کے گھروں میں نہ ہو اور کسی مشرکانہ بدعت کے ساتھ ان کو کوئی تعلق باقی نہ رہے خالص توحید کا ماحول پیدا کرنے والی ہوں اور اس خالص توحید کے ماحول میں اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔66 خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۳ تا ۵۹۵) باب ۲ : حُورٌ مَقْصُورتَ فِي الْخِيَامِ (الرحمن : ٧٣) وہ عورتیں کالی آنکھوں والی ہوں گی ( اور ) خیموں کے اندر رکھی گئی ہوں گی وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ حُورٌ سُودُ الْحَدَقِ حضرت ابن عباس نے کہا: محور کے معنی ہیں سیاہ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَقْصُورت (الرحمن : ۷۳) آنکھوں والی۔اور مجاہد نے کہا: مَقْصُورت کے مَحْبُوسَاتٌ قُصِرَ طَرْفُهُنَّ وَأَنْفُسُهُنَّ معنی ہیں وہ عورتیں جن کی نگاہ اور جن کی جانیں عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ قَاصِرَاتٌ لَا يَبْغِينَ اپنے خاوندوں کے لئے ہی وقف ہیں (کسی اور غَيْرَ أَزْوَاجِهِنَّ۔کے لئے نہیں) قاصِرَات کے معنی ہیں وہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی اور کی خواہش نہیں کریں گی۔٤٨٧٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۸۷۹ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عبد العزيز بن عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔انہوں حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِی نے ابو عمران جونی سے، انہوں نے ابو بکر بن بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عبداللہ بن قیس سے، انہوں نے اپنے باپ سے أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِّنْ تُؤْلُؤًة جنت میں خولدار موتیوں کا خیمہ ہو گا جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی، جس کے ایک کونے میں رہنے والے دوسروں کو نہیں دیکھیں گے۔مؤمن ان سب کے پاس چکر لگائیں گے۔مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِّنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُونَ۔طرفه: ٣٢٤٣۔