صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 174
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن جاتا اور پیدا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جنت اس قوم کے لئے اور اس اُمت کے لئے ابدی ہے اس وجہ سے لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ کہ ان کی بیویاں جو مطهرة ہیں۔ رہ مطهرة کے ایک معنی ہیں گناہ سے بچنے والیاں۔ مطهرة کے ایک دوسرے معنی ہیں اعمال صالحہ کو بجالانے والیاں یعنی ایسے اعمال جن میں کوئی فساد نہ ہو اور مطهرة کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ عورتوں کا وہ گروہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بد رسوم اور مشرکانہ بدعتوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور ان کا وجود دنیا کے وجود سے بالکل علیحدہ کر دیا گیا ہے بلکہ اس دنیا میں رہتی ہوئی بھی وہ جنت کی حوروں کی مانند بن گئی ہیں یعنی وہ ہر اس گند سے اور شنیع اور قبیح فعل سے پاک ہیں کہ جن میں کافرات ملوث ہوتی ہیں۔ یہ وہ عورتیں ہیں کہ جن کے گھروں میں کسی قسم کی بد رسم نظر نہیں آتی یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے گھر اور اپنے ماحول سے مشرکانہ بدعتوں کو دور کرنے والی ہیں چونکہ یہ ازواج مطہرات ان لوگوں کو ملی ہیں اور چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو توحید خالص کے ماحول میں تربیت کر سکیں اور ایک سچا اور پکا اور موحد مسلمان بنا سکیں اور اس لئے اگلی نسل شیطان سے محفوظ رکھنے میں یہ عورتیں کامیاب ہو جاتی ہیں اس لئے اس جنت کو دوام مل جاتا ہے اس لئے یہ جنت ایک نسل کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اگلی نسل کے لئے اور پھر اس سے اگلی نسل کے لئے بھی یہ دنیا کی جنت قائم رہتی ہے اور جو بشارتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان بشارتوں کی روشنی میں یہ جنت ہمارے لئے صدیوں تک قائم رہنی چاہئے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری کو نباہنے والے ہوں ہم مرد بھی اور ہماری مائیں اور ہماری بیویاں اور ہماری بہنیں اور ہماری دوسری رشتہ دار عورتیں بھی تو اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اس جنت کو اس دنیوی جنت کو بھی ہمارے لئے ایک قسم کی ابدی جنت بنادے گا لیکن اس کے لئے شرط یہی ہے کہ عورت اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف پوری