صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 173
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۳ ۶۵ -٢ کتاب التفسير / الرحمن کہہ سکتا ہے کہ یہ جنت ہمیشہ رہنے والی ہے جب تک کہ مستقل طور پر اُمت مسلمہ کی ہر عورت ان قربانیوں کو بجانہ لائے جن قربانیوں کی توقع مر دوں اور عورتوں ہر دو سے کی جاتی ہے۔اور جب تک عورت اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے والی نہ ہو، جیسا کہ اس کے خاوند اور اس کے باپ اور اس کے بھائی اور اس کے دوسرے رشتہ دار اور تعلق رکھنے والے مرد اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے والے ہیں، اس وقت تک اس جنت کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ عورت کی ایک بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آئندہ نسل کی صحیح تربیت کرے اور آئندہ نسل میں اُن نقوش کو اُبھارے جو نقوش اسلامی انوار سے بنے ہوئے ہوں، جو نقوش قرآن کریم کی تعلیم عمل کرنے کے نتیجہ میں اُبھرتے ہیں۔تو جب تک عورت اپنی اس ذمہ داری کو نہیں نیا ہے گی وہ عورت جو ایثار پیشہ مرد کی بیوی اور اس اسلامی جنت کی نرسری کی ماں ہے اس وقت تک اس جنت کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا۔ایک نسل خدا کی رحمتوں کے سایہ کے نیچے اپنی زندگی کے دن گزار کے اس دنیا سے رخصت ہو جائے گی اور اگر اگلی نسلی کی تربیت صحیح نہ ہوئی تو پہلی نسل کے اس دنیا سے گزر جانے کے ساتھ ہی خدا کی رحمت کا سایہ بھی اس قوم سے اٹھ جائے گا اور خدا کی رحمت کے سایہ کی بجائے شیطانی تمازت کے اندر اگلی نسلیں جھلنے لگیں گی۔اللہ تعالی سورہ نساء میں اس طرف مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ سَنْدُ خِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجُ مُطَهَّرَةٌ وَنُدُ خِلْهُمْ ظِلا ظليلا (النساء :۵۸) اس آیت کریمہ میں ایک مضمون یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان پر پختگی سے قائم رہتے ہیں اور ایسے اعمال صالحہ بجالاتے ہیں جن میں فساد کی کوئی ملونی نہیں ہوتی اور وہ لوگ جن کے سارے کام اور سارے اعمال اپنے خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں، جن کا نفس مر جاتا ہے اور اس فانی انسان میں خدائے ذوالجلال کی ایک تجلی کے نتیجہ میں ایک نئی روح پھونکی جاتی ہے اور اس نئی روح کے آرام اور آسائش کے لئے اس دنیا میں ایک جنت کو قائم کیا