صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 172
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۲ ۶۵ -٢ کتاب التفسير / الرحمن ہے۔دراصل تو اُخروی زندگی کی جنت یا اس دنیا کی جنت ایک ہی جنت ہیں لیکن چونکہ ہم دو نقطہ ہائے نگاہ سے، دو زاویوں سے اس کو دیکھ سکتے ہیں اور ان دو نقطہ ہائے نگاہ کو ہی اللہ تعالی نمایاں کرنا چاہتا تھا اس لئے ایک کی بجائے دو جنتوں کا ذکر سورۃ رحمن میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ رحمن میں ہماری توجہ اس طرف پھیرتا ہے کہ اگر اس جنت کو تم حاصل کرنا چاہتے ہو جس کو دوام حاصل ہو اور جو ابدی جنت کے نام سے پکاری جا سکے ، جس کے متعلق یہ فقرہ صحیح ثابت ہو کہ خُلِدِينَ فِيهَا ایک لمبا عرصہ یہ قوم دنیا کی اس جنت کے اندر رہے گی تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ دو زاویوں سے تم اس جنت پر نگاہ ڈالو اور دو طرفہ کوشش کے ذریعہ اسے حاصل کرو اور یہ کوشش کرو کہ دو چشمے تمہاری قوم اور اُمت میں پھوٹیں۔کیونکہ صرف ایک چشمہ اسے سیراب کر کے اُسے ابدیت عطا نہیں کر سکتا۔اگر اس دنیوی جنت نے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے دوام حاصل کرنا ہے اور ابدیت کا مقام حاصل کرنا ہے تو ضروری ہے کہ دو چشمے اس کے باغ کو سیراب کر رہے ہوں ایک تو وہ چشمہ محبت الہی کا، ایک تو وہ چشمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا، ایک تو وہ چشمہ اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کے نمونے ظاہر کرنے کا جو مرد کے دل سے پھوٹتا ہے اس کی ضرورت ہے اور دوسرے اس چشمہ کی ضرورت ہے جو ایک عورت کے دل سے پھوٹے اور اس چشمہ کے پانی سے باغ (اس جنت) کی نرسری کو سیراب کیا جائے اس لئے مِن دُونِھا جنین کے آگے دو چشموں کا بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اے مردو! اگر خدا کی رضا کو حاصل کر بھی لو اور اگر تمہاری نیکی اور تقویٰ کے نتیجہ میں اور ان قربانیوں کی وجہ سے جو تم اس کی راہ میں دے رہے ہو اور اس موت کی وجہ سے جو تم نے اپنے خدا کی رضا کے حصول کے لئے اپنے پر وارد کی ہو اور اس اثر کے نتیجہ میں جس سے تمہاری بیویاں ایک حد تک متاثر ہوتی ہیں اس دنیا میں خدا کی رضا کی جنت کو حاصل بھی کر لو تو کون