صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 170
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۷۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن پگھلے ہوئے تانبے، پیتل اور لوہے کو کوٹنے سے جو چنگاریاں اُڑتی ہیں انہیں محاس کہا جاتا ہے۔ اس کے ایک معنی دھواں بھی ہیں۔ (تاج العروس - نحس) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: خلانورد سائنس دان جب راکٹوں میں بیٹھ کر سماء وارض کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر اسی طرح شعلوں اور ایک طرح کے دھوئیں کی بوچھاڑ ہوتی ہے۔“ ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع ، سورۃ الرحمن حاشیه آیت ۳۶ صفحه ۹۷۸) خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنتين (الرحمن:۴۷) اور جو شخص اپنے رب کی شان سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں مقرر ہیں۔ دنیوی بھی اور اُخروی بھی) (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو شخص خدا تعالیٰ کے مقام اور عزت کا پاس کر کے اور اس بات سے ڈر کر کہ ایک دن خدا کے حضور میں پوچھا جائے گا گنہ کو چھوڑتا ہے اُس کو دو بہشت عطا ہوں گے (۱) اول اسی دنیا میں بہشتی زندگی اس کو عطا کی جاوے گی اور ایک پاک تبدیلی اس میں پیدا ہو جائے گی اور خدا اس کا متوتی اور متکفل ہو گا۔ دوسرے مرنے کے بعد جاودانی بہشت اس کو عطا کیا جائے گا۔ یہ اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرا اور اس کو دنیا پر اور نفسانی جذبات پر مقدم کر لیا۔“ کو ناپر اور ان جذبات پر قدم ایران لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۸) كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ : وہ ہر وقت ایک نرالی شان میں ہے یعنی گناہ کو بخشتا ہے اور گھبراہٹ دور کرتا ہے تَ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْن : وہ ہر وقت ایک نرالی شان اور کسی قوم کو اُٹھاتا ہے اور دوسروں کو نیچا دکھاتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کی صفات اتنی غیر محدود ہیں کہ ہر لحظہ وہ نئی صفات کا ظہور کرتا رہتا ہے اور انسان کی طرح اس کی صفات صرف چند صفات میں محدود نہیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( تفسیر صغیر، سورۃ الرحمن حاشیه آیت ۳۰) ہر یک دن وہ ہر ایک کام میں ہے۔ کسی کو بلاوے اور کسی کو رڈ کرے اور کسی کو آباد کرے اور کسی کو ویران کرے اور کسی کو عزت دے اور کسی کو ذلت دے۔“ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۰)