صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۹ ۶۵ -٧ کتاب التفسير / الرحمن موجودہ دور میں مشرقین اور مغربین کا محاورہ بعض علاقوں کی نسبت سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔مثلاً مغرب سے دیکھنے والے عرب ممالک کو مشرق وسطی اور آسٹریلیا وغیرہ کو مشرق بعید کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔اسی طرح مشرقی ممالک سے دیکھنے والا مغربی دنیا کو ویسے ہی ناموں سے منسوب کر سکتا ہے۔كَالْفَخَارِ : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالفَارِ) (الرحمن: (۱۵) انسان کو اس نے بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”انسان کے متعلق ایک ایسی پیشگوئی فرمائی گئی جو عظیم الشان حکمت اور تخلیق کے گہرے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔گیلی مٹی سے انسان کے پیدا کرنے کا تصور تو پچھلی سب کتابوں میں موجود ہے لیکن کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے انسان کا پیدا کیا جانا ایک ایسا تصور ہے جو قرآنِ مجید سے پہلے کسی کتاب نے بیان نہیں کیا۔یہاں تفصیل کا موقع نہیں لیکن سائنسدان جانتے ہیں کہ تخلیق کے دوران ایک ایسی منزل بھی آئی جب ضروری تھا کہ تخلیقی مادوں کو بجنے والی ٹھیکریوں کی صورت میں خشک کر دیا جائے۔اور پھر سمندر نے واپس اس خشک مادے کو اپنی لہروں میں لپیٹ لیا اور انسان کی کیمیائی ترقی کا ایسا سفر شروع ہوا جس میں انسان کی تخلیق کے لیے یہ ضروری کیمیا بار بار اپنے ابتدائی دور کی طرف نہ لوٹیں۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الرحمن، صفحہ ۹۷۳) المنست: مجاہد نے اس سے ایسی بڑی کشتیاں مراد لی ہیں جن کے بادبان او پر اٹھائے گئے ہوں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۹۲) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَتُ فِي الْبَحْرِ كَالاَعلام (الرحمن : ۲۵) اور اس کی بنائی ہوئی کشتیاں (بھی ہیں) اور (اس کے بنائے ہوئے ) جہاز بھی ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان بلند پہاڑوں جیسے جہازوں سے مراد وہ دخانی جہاز ہیں جو ہمارے زمانہ میں نکلے ہیں۔یہ ایک پیشگوئی تھی جو پوری ہو گئی۔آج کل سمندری سفر کرنے والے اس پیشگوئی کی سچائی کے گواہ ہیں۔“ ( تفسیر صغیر، سورة الرحمن حاشیه آیت (۲۵) وَنُحَاسُ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسُ فَلَا تَنْتَصِرانِ (الرحمن: ۳۶) تم پر آگ کا ایک شعلہ گرایا جائے گا اور تانبا بھی (گرایا جائے گا) پس تم دونوں ہر گز غالب نہیں آسکتے۔(ترجمہ تفسیر صغیر)