صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 168 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 168

يح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۸ ۶۵ ۶ - کتاب التفسير الرحمن یح بحسبان : مجاہد نے کہا بحسبان (الرحمن:۲) کے معنی ہیں چکی کی طرح گھوم رہے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انسان کے الفاظ میں کمزوری ہے۔انسان کے فلسفے میں کمزوری ہے۔جوں جوں زمانہ نئے نئے علوم دریافت کرتا ہے وہ اپنے حالات، اپنی اصطلاحات کو بدلتا جاتا ہے۔لیکن خدا کے کلام میں اس قسم کی کمزوری نہیں ہوتی۔بلکہ جوں جوں سائنس ترقی کرتی ہے اس کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔حسبان ایسا لفظ ہے کہ تمام دنیا کا فلسفہ پرانا ہو یا نیا، اس کو نہیں جھٹلا سکتا۔بخاری نے اس کے معنے کیے ہیں حُسبان گستانِ الرّحی۔سورج اور چاند کا حساب دیکھو۔ایک سیکنڈ کی بھی اس میں غلطی نہیں ہوتی۔اگر ہم قطب شمالی یا قطب جنوبی میں ہوں تو چاند اور سورج چکی کی طرح چلتے معلوم ہوتے ہیں اور اگر ہم خط استوا پر ہوں تو فلک المغزل چرخ کی طرح چلتے معلوم ہوں گے۔اور حُسبان اس دونوں صورتوں میں صادق آتا ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۱) رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ : یعنی وہ دونوں مشرقوں کا بھی رب ہے اور دونوں مغربوں کا بھی رب ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ صيف وشتاء کے مطالعہ کے اختلاف کے اعتبار سے کہا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 66 ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۲) ”یہ زمین کے گول ہونے کی طرف اشارہ ہے۔جس کی وجہ سے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔“ ( تفسیر صغیر، سورۃ الرحمن حاشیه آیت ۱۸) حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس آیت کریمہ میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر ہے جبکہ اُس زمانہ کے انسان کو صرف ایک مشرق اور ایک مغرب کا علم تھا۔اس بہت چھوٹی سی آیت میں آئندہ زمانہ کی عظیم الشان دریافتوں کے بارہ میں پیشگوئی ہے۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، سورہ پر حمن، حاشیه آیت ۱۸ صفحه ۹۷۶)