صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 167
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن (الرحمن: ۲۱) حَاجِزُ الْأَنَامُ الْخَلْقُ اور گھبراہٹ دور کرتا ہے اور کسی قوم کو اُٹھاتا ہے نَضَا خَتْنِ (الرحمن: ٦٧) فَيَّاضَتَانِ ذُو اور دوسروں کو نیچا دکھاتا ہے۔ اور حضرت ابن الجلل (الرحمن: ۲۸) ذُو الْعَظَمَةِ ۔ وَقَالَ عباس نے کہا: برزخ کے معنی ہیں آڑ۔ الْأَنَامُ کے معنی ہیں مخلوقات نضاحتن کے معنی ہیں غَيْرُهُ مَارِج (الرحمن: ١٦) خَالِصٌ مِّنَ النَّارِ وَيُقَالُ مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ خیر و برکت بہارہے ہیں۔ ذُو الْجَلالِ کے معنی ہیں عظمت والا۔ اور (حضرت ابو درداء کے سوا) إِذَا خَلَّاهُمْ يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى آوروں نے کہا: مارچ کے معنی ہیں خالص انگار۔ بَعْضٍ، مَرَجَ أَمْرُ النَّاسِ، مَرِيج (ق:٦) اور مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ (یعنی حاکم نے رعیت کو مُلْتَبِسْ مَرَجَ اخْتَلَطَ الْبَحْرَانِ مِنْ اپنے حال پر چھوڑ دیا) اس وقت کہتے ہیں جب وہ مَرَجْتَ دَابَّتَكَ تَرَكْتَهَا ۔ سَنَفْرُعُ لَكُم انہیں ایک دوسرے پر ظلم کرتے : ر ظلم کرتے ہوئے چھوڑ دیتا (الرحمن: ۳۲) سَنُحَاسِبُكُمْ لَا يَشْغَلَهُ ہے۔ مَرَجَ أَمْرُ النَّاسِ یعنی لوگوں کا نظام درہم شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ مَعْرُوفٌ فِي برہم ہو گیا۔ مریج گڑ بڑی کو کہتے ہیں۔ مرج کے كَلَامِ الْعَرَبِ يُقَالُ لَا تَفَرَّغَنَّ لَكَ وَمَا معنی ہیں دونوں دریا آپس میں مل گئے۔ جیسے بِهِ شُغْلٌ يَقُولُ لَآخُذَنَّكَ عَلَى غِرَّتِكَ۔ (کہتے ہیں:) مَرَجْتَ دَابَّتك یعنی تو نے اپنے جانور کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ سَنَفْرُعُ لكم یعنی ہم عنقریب تم سے حساب لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز کسی چیز سے بے توجہ نہیں کر سکتی۔ اور یہ محاوره کلام عرب میں مشہور ہے۔ کہتے ہیں: لَا تَفَرَّغَنَّ لَكَ یعنی میں تمہارے لئے فارغ ہوتا ہوں حالانکہ وہ فارغ ہی ہوتا ہے، کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس کی یہ مراد ہوتی ہے کہ میں تجھے تمہاری غفلت کی حالت میں پکڑوں گا (یعنی سزا دوں گا۔)