صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 167 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 167

صحیح البخاری جلد ۱۲ 172 ۶۵ -٧ کتاب التفسير / الرحمن بَعْضٍ، مَرَجَ أَمْرُ النَّاسِ، مَرِيج (ق: ٦) مُلْتَبِسْ مَرَجَ اخْتَلَطَ الْبَحْرَانِ مِنْ (الرحمن: ۲۱) حَاجِزُ الْأَتَامُ الْخَلْقُ اور گھبراہٹ دور کرتا ہے اور کسی قوم کو اُٹھاتا ہے ناختنِ (الرحمن: ٦٧) فَيَّاضَتَانِ ذُو اور دوسروں کو نیچا دکھاتا ہے۔اور حضرت ابن الْجَللِ (الرحمن: ٢٨) ذُو الْعَظَمَةِ۔وَقَالَ عباس نے کہا: برزخ کے معنی ہیں آڑ۔الْأَنامُ کے معنی ہیں مخلوقات۔نَضَاخُتن کے معنی ہیں غَيْرُهُ مَارِج (الرحمن: ١٦) خَالِصٌ مِّنَ النَّارِ وَيُقَالُ مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ خیر و برکت بہا رہے ہیں۔ذُو الْجَللِ کے معنی ہیں إِذَا خَلَّاهُمْ يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى عظمت والا۔اور (حضرت ابودرداء کے سوا) اوروں نے کہا: مارج کے معنی ہیں خالص انگار۔مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ ( یعنی حاکم نے رعیت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا) اس وقت کہتے ہیں جب وہ مَرَجْتَ دَابَّتَكَ تَرَكْتَهَا۔سَنَفْرُغُ لَكُمْ انہیں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہوئے چھوڑ دیتا (الرحمن: ۳۲) سَنُحَاسِبُكُمْ لَا يَشْغَلَهُ ہے۔مَرَجَ أَمْرُ النَّاس یعنی لوگوں کا نظام درہم شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ مَعْرُوفٌ فِي برہم ہو گیا۔مریج گڑبڑی کو کہتے ہیں۔مرج کے كَلَامِ الْعَرَبِ يُقَالُ لَأَتَفَرَّغَنَّ لَكَ وَمَا معنی ہیں دونوں دریا آپس میں مل گئے۔جیسے بِهِ شُغْلٌ يَقُولُ لَآخُذَنَّكَ عَلَى غِرَتِكَ ( کہتے ہیں :) مَرَجْتَ دَابَّتك یعنی تو نے اپنے جانور کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔سَنَفْرُغُ لَكُمْ یعنی ہم عنقریب تم سے حساب لیں گے کیونکہ اللہ تعالٰی کو کوئی چیز کسی چیز سے بے توجہ نہیں کرسکتی۔اور یہ محاوره کلام عرب میں مشہور ہے۔کہتے ہیں: لا تَفَرَّغَنَ لَكَ یعنی میں تمہارے لئے فارغ ہوتا ہوں حالانکہ وہ فارغ ہی ہوتا ہے، کوئی کام نہیں ہوتا۔اس کی یہ مراد ہوتی ہے کہ میں تجھے تمہاری غفلت کی حالت میں پکڑوں گا (یعنی سزا دوں گا۔)