صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 166
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۶۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الرحمن الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى ( البقرة : ۲۳۹) گرایا۔ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلُ وَرُمَّانَ یعنی وہاں فَأَمَرَهُمْ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى كُلِّ میوہ، کھجوریں اور انار ہو گا۔ اس آیت سے بعض الصَّلَوَاتِ ثُمَّ أَعَادَ الْعَصْرَ تَشْدِيدًا نے یہ نکالا کہ رُمان اور نخل میوہ نہیں۔ اور لَهَا كَمَا أُعِيدَ النَّخْلُ وَالرُّمَّانُ وَمِثْلُهَا عرب جو ہیں تو وہ ان کو میوہ شمار کرتے ہیں۔ جیسے اللہ عز و جل نے فرمایا: حَفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوة أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ الوسطی یعنی اللہ تعالی نے ان کو تمام نمازوں کی وَمَنْ فِي الْأَرْضِ (الحج: ١٩) ثُمَّ قَالَ نگہداشت رکھنے کا حکم دیا، پھر عصر کا دوبارہ ذکر وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقٌّ عَلَيْهِ کر کے اس کے متعلق تاکید کر دی۔ جیسا کہ یہاں الْعَذَابُ (الحج : ١٩) وَقَدْ ذَكَرَهُمْ فِي بھی کھجور اور انار کو دہرایا گیا اور اس طرح یہ آیت أَوَّلِ قَوْلِهِ مَنْ فِي السَّمُوتِ وَ مَنْ فِي ہے : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے فرمانبردار ہیں الأرض (الحج: ١٩)۔ وہ جو ان بلندیوں میں ہیں اور وہ جو ان زمینوں میں ہیں ؟ یہ کہہ کر اس کے بعد فرمایا: اور لوگوں میں سے بھی بہت ایسے ہیں کہ جن پر عذاب لازم ہو گیا۔ حالانکہ پہلی آیت یعنی مَنْ فِي السَّمَواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ میں لوگوں کا ذکر کیا۔ وَقَالَ غَيْرُهُ أَفْنَان (الرحمن: ٤٩) أَغْصَانٍ اور ان کے سوا اوروں نے کہا: افنان کے معنی وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ (الرحمن: ٥٥) مَا ہیں ڈالیاں۔ وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ یعنی دونوں يُجْتَنَى قَرِيبٌ وَقَالَ الْحَسَنُ فَبِأَتِي باغوں کے میوے جو چننے کے قابل ہوں گے الاء (الرحمن : ٥٦) نِعَمِهِ۔ وَقَالَ قَتَادَةُ قریب ہوں گے۔ اور حسن (بصری) نے کہا: فبائي رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ (الرحمن : ٥٦) يَعْنِي الْجِنَّ الآء یعنی اس کی کون کونسی نعمتوں کو۔ اور قتادہ وَالْإِنْسَ۔ وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كُلَّ يَوْمٍ نے کہا: رَبِّكُمَا تُكَذبن سے مراد ہے تم دونوں یعنی هُوَ فِي شَأْنِ (الرحمن: ٣٠) يَغْفِرُ ذَنْبًا جن و انس اپنے رب کا انکار کرو گے۔ اور حضرت وَيَكْشِفُ كَرْبًا وَيَرْفَعُ قَوْمًا وَيَضَعُ ابو درداء نے کہا: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ : وہ ہر آخَرِينَ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَرْزَخٌ وقت ایک نرالی شان میں ہے یعنی گناہ کو بخشتا ہے