صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 166
صحیح البخاری جلد ۱۲ 194 ۶۵ -٧ کتاب التفسير / الرحمن الصَّلَواتِ وَالصَّلوة الوسطى (البقرة: ۲۳۹) گرایا- فيها فَاكِهَةٌ وَنَخْلُ وَرُمَانُ یعنی وہاں فَأَمَرَهُمْ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى كُلّ میوہ کھجوریں اور انار ہوگا۔اس آیت سے بعض الصَّلَوَاتِ ثُمَّ أَعَادَ الْعَصْرَ تَشْدِيدًا نے یہ نکالا کہ رُمان اور نخل میوہ نہیں۔اور كَمَا أُعِيدَ النَّخْلُ وَالرُّمَّانُ وَمِثْلُهَا عرب جو ہیں تو وہ ان کو میوہ شمار کرتے ہیں۔جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا: حفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوة الم ترَ أَنَّ اللهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ الوسطی۔یعنی اللہ تعالی نے ان کو تمام نمازوں کی وَمَنْ فِي الْأَرْضِ (الحج: ١٩) ثُمَّ قَالَ نگہداشت رکھنے کا حکم دیا، پھر عصر کا دوبارہ ذکر وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقٌّ عَلَيْهِ کر کے اس کے متعلق تاکید کر دی۔جیسا کہ یہاں ، الْعَذَابُ (الحج: ١٩) وَقَدْ ذَكَرَهُمْ فِي بھی کھجور اور انار کو دہرایا گیا اور اس طرح یہ آیت أَوَّلِ قَوْلِهِ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَ مَنْ فِی ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے فرمانبردار ہیں وہ جو ان بلندیوں میں ہیں اور وہ جو ان زمینوں میں ہیں ؟ یہ کہہ کر اس کے بعد فرمایا: اور لوگوں میں سے بھی بہت ایسے ہیں کہ جن پر عذاب لازم ہو گیا۔حالانکہ پہلی آیت یعنی مَنْ فِي السَّمَواتِ وَمَنْ فِي الأرضِ میں لوگوں کا ذکر کیا۔الْأَرْضِ (الحج: ١٩)۔وَقَالَ غَيْرُهُ أَفْنَانِ (الرحمن: ٤٩) أَغْصَانٍ اور ان کے سوا اوروں نے کہا: آفنَانِ کے معنی جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ (الرحمن: ٥٥) مَا ہیں ڈالیاں۔وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ یعنی دونوں يُجْتَنَى قَرِيبٌ۔وَقَالَ الْحَسَنُ فَبِأَيِّ باغوں کے میوے جو چننے کے قابل ہوں گے الآء (الرحمن: ٥٦) نِعَمِهِ۔وَقَالَ قَتَادَةُ قریب ہوں گے۔اور حسن (بصری) نے کہا: فبائي رَبَّكُمَا تُكَذِ بنِ (الرحمن: ٥٦) يَعْنِي الْجِنَّ الآءِ یعنی اس کی کون کونسی نعمتوں کو۔اور قتادہ وَالْإِنْسَ۔وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كُلَّ يَوْمٍ نے کہا: رَبكما تكت بین سے مراد ہے تم دونوں یعنی هُوَ فِي شَأن (الرحمن: ٣٠) يَغْفِرُ ذَنْبًا جن و انس اپنے رب کا انکار کرو گے۔اور حضرت وَيَكْشِفُ كَرْبًا وَيَرْفَعُ قَوْمًا وَيَضَعُ ابو دردائر نے کہا: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ : وہ ہر آخَرِينَ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَرْزَخٌ وقت ایک نرالی شان میں ہے یعنی گناہ کو بخشتا ہے